ہفتہ, اپریل 5, 2025
اشتہار

صادق ہدایت:‌ عوامی زبان کو اعتبار بخشنے والا ادیب

اشتہار

حیرت انگیز

فارسی ادب میں صادق ہدایت کا نام ایک مصنّف اور دانش ور کے طور پر بھی لیا جاتا ہے جن کا عہد جدید افسانے کا دوسرا اور اصل دور کہلاتا ہے۔ صداق ہدایت نے اسی زمانے میں افسانے کو جدید‌ خطوط پر استوار کیا اور فارسی ادب میں ممتاز ہوئے۔

قدیم ایران کی تہذیب و ثقافت کے علاوہ اس ملک میں بادشاہت اور بعد میں انقلاب کا بھی مقامی ادب پر گہرا اثر ہوا، اور بہت سے اہل قلم نے نام و مقام پیدا کیا۔ مگر اس خطّے میں ادب اور صحافت کے ساتھ ہر اہلِ‌ قلم نے جرأتِ اظہار اور اپنی تصانیف کی وجہ سے طرح طرح کی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ ان ادوار میں‌ ادیب و شعرا کا آزادی سے کسی معاملے میں رائے دینا اور اظہار خیال کرنا مشکل تھا۔

صادق ہدایت کو ایرانی ادب میں بیسویں صدی کے عظیم مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ مقام و مرتبہ انھیں افسانوں کے مجموعے ’زندہ بگور‘ (1930)، اُس کے بعد ’سہ قطرۂ خوں‘ (1932) سایۂ روشن (1933)، وغ وغ ساباب، طویل کہانی علویہ خانم (1933) اور ناول بوفِ کور (1937) کی بدولت ملا۔

جدید ایرانی ادب میں صادق ہدایت کا امتیازی وصف یہ رہا کہ انھوں‌ نے زبان بظاہر مزید سادہ اور صاف برتی لیکن وہ کہانی میں حقیقت پسندی اور تصوّرات کو اس طرح بہم کر دیتے ہیں کہ کہانی کی شکل ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ ذاتی زندگی کی بات کی جائے تو صادق کی شخصیت میں‌ یاسیت پسندی اور پژمردگی وقت کے ساتھ بڑھ گئی تھی اور اس کی جھلک ان کی تخلیقات میں بھی نظر آتی ہے۔ ان حالات کا شکار ہونے کے بعد صادق ہدایت نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔ 4 اپریل 1951ء کو فرانس میں مقیم اس ادیب نے خود کشی کر لی تھی۔

صادق ہدایت کو فارسی ادب میں پہلا باقاعدہ قنوطی تخلیق کار سمجھا جاتا ہے جو مایوسی اور ناامیدی پر مبنی افسانے لکھنے کے باوجود ایران میں بے حد مقبول تھے۔ انھیں فارسی ادب میں قنوطیت (Nihilism) کا بانی کہا جاتا ہے۔ صادق ہدایت کی کہانیاں انسانی زندگی کی بدنما حالت اور نفسیاتی کرب کا مجموعہ ہیں جن میں فلسفیانہ قسم کا اضطراب، ناامیدی، یاسیت اور حد درجہ مایوسی نظر آتی ہے۔ صادق ہدایت کے کم و بیش تمام ہی افسانوں کے مرکزی کرداروں کا انجام یا تو کسی نہ کسی حال میں موت پر ہوا یا وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

بیسویں صدی کا پہلا نصف حصّہ عالمی سطح پر تمدّن کی شکست و ریخت کا زمانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس زمانے میں دو عالمی جنگوں نے انسانی آبادی اور اس سے وابستہ شعبوں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ انسانی تہذیب اور ثقافت کو شدید نقصان ہوا اور دنیا بھر ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوگئے جس کی جھلکیاں اس زمانے کے ادب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ صادق ہدایت بھی اس سے متاثر ہوئے اور جدید فارسی ادب میں داستانوی حقیقت پسندی کی بنیاد رکھتے ہوئے اپنے ناولوں اور افسانوں کا موضوع عام آدمی کے مسائل اور مشکلات کو بنایا۔ انھوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو الفاظ کا جامہ پہنایا۔

وہ 1903ء میں تہران کے ایک متموّل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے دارالفنون نامی ادارے سے ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد فرانسیسی زبان سیکھی۔ 20 سال کی عمر میں اعلیٰ‌ تعلیم کے حصول کی غرض سے وہ فرانس چلے گئے جہاں پہلی عالمی جنگ کے تباہ کن اثرات اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھا اور اس کا گہرا اثر لیا۔ بعد میں وہ ایران لوٹے، مگر یہاں کے حالات دیکھ کر ہندوستان منتقل ہوگئے۔ وہ اپنا تخلیقی سفر شروع کرچکے تھے اور بمبئی میں قیام کے دوران صادق ہدایت نے اپنا ناول بوف کور (The Blind Owl) تحریر کیا۔ ان کی یہ کہانیاں ہندوستان، ایران ہی نہیں دنیا بھر میں‌ مشہور ہوئیں۔ صادق ہدایت نے ڈرامہ اور سفرنامے بھی لکھے۔

صادق ہدایت نے اپنے دور کے عوام کے جذبات اور خیالات کی بھرپور ترجمانی کی اور اپنے عہد کے دوسرے ادیبوں سے اس لیے ممتاز ہوئے کہ انھوں نے عوامی زبان کو فارسی ادب کا حصّہ بنایا اور اسے اعتبار بخشا۔ صادق ہدایت کی تصانیف کی تعداد 30 سے زائد ہے اور یہ جدید ایرانی ادب کا حصّہ ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں