مودی سرکار نے مسلمانوں کی کھربوں روپے کی املاک قبضے میں لینے کی تیاری کرلی۔
بھارت میں لوک سبھا کے بعد راجیا سبھا نے بھی متنازع وقف ترمیمی بل منظور کرلیا، کانگرنس کے صدر نے متنازع بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
راجیا سبھا میں کانگریس رکن کپل سبل نے کہا کہ وقف بورڈ کی زمین فروخت نہیں کی جاسکتی، حکومت مداخلت نہ کرے، بہار کے ضلع مظفر پور سے جنتا دل یونائیٹڈ کے سینئر رہنما ایم راجو نیر اور محمد تبریز صدیقی نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
راجیا سبھا میں شیوسینا کے رکن سنجے راوت نے بھی متنازع ترمیمی بل کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ 8 لاکھ 72 ہزار سے زائد وقف جائیدادیں ہیں جن کی مالیت 14 ارب ڈالر ہے۔
اس حوالے سے ردعمل دیتےہوئے ریاست تامل ناڈوکے وزیراعلیٰ اورڈی ایم کے رہنما ایم کےاسٹالن نے بل کی شدید مذمت کی اور وقف ترمیمی بل سپریم کورٹ میں چیلنج کرنےکااعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ تامل ناڈو ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں جائےگی، ترمیمی بل وقف بورڈ کی خود مختاری کے خلاف ہے، اس سے اقلیتی مسلم آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔
دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسونل لا بورڈ کی جانب سے بل کے خلاف آندھرا پردیش میں دھرنا دیا جا رہا ہے۔