واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکیوں کے بعد ایران کو براہ راست مذاکرات کی تجویز دے دی۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھمکیوں کے باوجود ایران امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر راضی ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر تہران کے ساتھ آمنے سامنے سفارت کاری کے امکان کے بارے میں پر امید نظر آئے۔ ٹرمپ نے کہا انھیں لگتا ہے کہ ایران، ہم سے براہ راست بات چیت کرنے کا خواہاں ہے، یہ بہتر ہوگا کہ ہم براہ راست بات چیت کریں۔
انھوں نے کہا اگر آپ ثالثوں کی موجودگی میں بات چیت کرتے ہیں تو مذاکرات تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور آپ ایک دوسرے کو کہیں زیادہ بہتر طور سے سمجھ لیتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا گیا تھا، جب کہ امریکی صدر باقاعدگی سے ایران کو فوجی حملوں کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ اساتذہ کے پروگرام کی فنڈنگ روک سکتی ہے، سپریم کورٹ نے اختیار تسلیم کر لیا
ادھر تہران نے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، لیکن کہا ہے کہ وہ بالواسطہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران نے واقعی اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے یا ٹرمپ تہران کے مؤقف کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف پابندیاں لگاتی آ رہی ہے، جس کا مقصد ملک کی تیل کی برآمدات خاص طور پر چین کو مکمل طور پر روکنا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ 2018 میں، صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ وہ کثیر الجہتی معاہدہ ختم کر دیا تھا، جس کے تحت ایران اس بات پر تیار تھا کہ وہ معیشت کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام کو واپس لے لے گا۔