سوشل میڈیا کمپنی میٹا اس مہینے کے آخر میں اپنا نیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل لاما 4 ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس حوالے سے تیاری جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا اے آئی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، پیشرفت سے منسلک دو ملازمین نے بتایا کہ نئے ماڈل کی ریلیز دوبارہ ملتوی کی جا سکتی ہے۔
اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کی کامیابی کے بعد ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت میں جارحانہ انداز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس نے ٹیک لینڈ سکیپ کو تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاما 4 کی ریلیز کی تاخیر کی ایک وجہ تکنیکی معیارات خاص طور پر ریاضی کے کاموں میں توقعات پر پورا نہیں اترنا تھا۔
کمپنی کو اس بات پر بھی تشویش تھی کہ لاما 4 انسانوں جیسی آواز کی بات چیت کرنے میں اوپن اے آئی کے ماڈلز سے کم قابل تھا۔
بڑی ٹیک کمپنیوں پر سرمایہ کاروں کے دباؤ کے درمیان میٹا اس سال اے آئی انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کیلیے 65 بلین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مزید برآں، چینی ٹیک فرم ڈیپ سیک کے کم لاگت والے ماڈل کا عروج اس یقین کو چیلنج کرتا ہے کہ بہترین اے آئی ماڈل تیار کرنے کیلیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ لاما 4 سے توقع ہے کہ وہ ڈیپ سیک سے کچھ تکنیکی پہلوؤں کو ادھار لے گا جس میں کم از کم ایک ورژن مشین لرننگ تکنیک کو استعمال کرنے کیلیے تیار کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا کمپنی نے پہلے میٹا اے آئی کے ذریعے لاما 4 کو جاری کرنے اور پھر بعد میں اوپن سورس سافٹ ویئر کے طور پر جاری کرنے پر بھی غور کیا ہے۔
پچھلے سال میٹا نے اپنا مفت لاما 3 ماڈل جاری کیا تھا جو 8 زبانوں میں بات چیت کر سکتا ہے، اعلیٰ معیار کا کمپیوٹر کوڈ لکھ سکتا ہے اور پچھلے ورژن کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ریاضی کے مسائل حل کر سکتا ہے۔