بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے نفاذ اور چین کے جوابی ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے۔
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے روز تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی، تین بڑے انڈیکس میں 5 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔
مارکیٹ میں یہ صورتحال اُس وقت دیکھی گئی جب چین نے اعلان کیا کہ وہ 10 اپریل سے امریکا سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 34 فیصد ٹیرف لگائے گا۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ برابری کی سطح پر بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کو کم کرے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے خلاف شروع کی گئی تجارتی اور ٹیرف کی جنگ بلا اشتعال اور بلا جواز ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس سے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اختلافات کو برابری کی سطح پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ’باہمی ٹیرف‘ پالیسی کے طور پر نئے محصولات کا اعلان کیا جس میں تقریباً ہر ملک پر 10 فیصد ٹیرف شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو 34 فیصد اضافی ٹیرف کے ساتھ نشانہ بنایا جس سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے خلاف امریکی محصولات 54 فیصد تک پہنچ گئے۔