امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ کے اثرات سے آئی فونز بھی نہیں بچ پائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر بڑے پیمانے پر محصولات عائد کیے ہیں جو عالمی تجارت کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں اور آئی فون جیسی ڈیوائسز بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی ٹیرف کے بوجھ صارفین پر ڈالتی ہے تو 30 سے 40 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
زیادہ تر آئی فون اب بھی چین میں بنائے جاتے ہیں جن پر 54 فیصد ٹیرف لگا ہوا تھا۔
ایپل ایک سال میں 220 ملین سے زیادہ آئی فون فروخت کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی منڈیوں میں امریکا، چین اور یورپ شامل ہیں۔
سب سے سستا iPhone 16 ماڈل امریکا میں $799 کے اسٹیکر کی قیمت کے ساتھ لانچ کیا گیا تھا لیکن Rosenblatt Securities کے تجزیہ کاروں کے تخمینے کی بنیاد پر اس کی قیمت $1,142 تک ہو سکتی ہے جن کا کہنا ہے کہ لاگت میں 43 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر ایپل صارفین تک ٹیرف کے اثرات تک پہنچائے گا تو آئی فونز کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی فون 16 پرو میکس جو کہ فی الحال $1599 میں ریٹیل ہے اگر 43 فیصد اضافہ صارفین تک پہنچایا جائے تو اس کی قیمت لگ بھگ $2300 ہو سکتی ہےجو کہ قریباً پاکستانی ساڑھے 6 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتے ہیں۔