The news is by your side.

Advertisement

ملیے پاکستانی طالب علم سے جو برطانیہ جاکر بین الاقوامی فیشن ماڈل بن گیا

لندن: پاکستان سے برطانیہ جانے والے طالب علم نے فیشن انڈسٹری میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور سے تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ جانے والے پاکستان طالب علم محمد علی سبحانی بین الاقوامی فیشن ماڈل بن گئےجہاں اب انہیں فیشن کی دنیا میں ’چیمپ امی‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی سبحانی کا کہنا تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں لندن آئے تو اُن کے لیے یہ ایک نئی دنیا تھی، یہاں آ کر وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنا اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی سپر مارکیٹ میں ملازمت کرنے لگے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ معمول کے مطابق سامان پیک کر رہے تھے کہ ایک خاتون نے اُن سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ اگر آپ کو اگر ماڈلنگ کرنے کا موقع ملے تو کریں گے، جس پر انہوں نے فوراً نفی میں سر ہلایا اور پھر خاتون رابطہ نمبر ، ای میل ایڈریس لے کر وہاں سے روانہ ہوئیں۔

سبحانی نے بتایا کہ میں نے اس بات کو معمولی سمجھا اور پھر بھول کر اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا، اگلی صبح  جب سو کر اٹھا تو ایک ماڈلنگ ایجنسی سے ای میل موصول ہوئی جس میں مجھے دفتر آنے کی دعوت دی گئی تھی۔

’مجھے یہ سب دھوکا معلوم ہورہا تھا، اُس کے باوجود میں چھٹی والے روز تیار ہوکر دیے گئے پتے پر پہنچا تو وہاں اُن ہی خاتون کو بیٹھا دیکھا جو ای میل ایڈریس اور نمبر لے کر گئیں تھیں، خاتون نے مجھے ایک فارم دیا جس کو بھرنے کے بعد میں نے انہیں یہ واپس کردیا، فارم دیکھ کر خاتون نے کہا کہ کسی کو اپنے ملک کا اور اپنا صحیح نام نہیں بتانا اور کہہ دینا کہ مجھے سب چیمپ بلاتے ہیں۔

بعد ازاں اُن خاتون نے خود ہی میرا نام چیمپ ایمی تجویز کیا جس پر میں نے رضا مندی ظاہر کردی، پھر کام کے حوالے سے بات شروع ہوئی تو انہوں نے مجھے پیش کش کی کہ مہینے میں دو پروگرام کرنے پر ہم آپ کو 1 ہزار پاؤنڈز دیں گے، جس پر میں نے کام کی حامی فوراً بھر لی‘۔

’اس کے بعد میرا ماڈلنگ کا کیرئیر شروع ہوا مگر جب کوئی مجھ سے پوچھتا تو کہ کہاں سے ہو تو میں یہ نہیں بتاتا کہ کہاں سے ہوں بلکہ ٹال دیتا اور اگر کوئی زیادہ پوچھتا تو آگے سے میں تھوڑا تلخ جواب دیتا کہ اپنے کام سے کام رکھو ، ایک بار ایک شو کی ہوسٹ نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے ہو تو میں نے کہا کہ ایشیا سے تو اُس نے کس ملک سے تو میں نے پاکستان کا نام لیا جس پر مجھے اگلے روز شو سے باہر کردیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس تعصب کا سامنا کیا مگر ہمت نہیں ہاری اور اپنے کام پر توجہ دینے کے ساتھ سخت محنت کرتا رہا، دو سال بعد جب لوگوں کو میری صلاحیتوں کا اعتراف ہوا تو میں نے اپنے ملک کا نام سب کے سامنے فخر سے لیا، میں اب تک 20 ممالک میں کام کرچکا ہے، پاکستان میں بھی پروجیکٹ کیے اور اب اداکاری کی طرف جارہا ہوں‘۔

ایمی نے بتایا کہ وہ کئی انگلش فلموں اور ڈراموں میں بطور معاون اداکار کام کرچکے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں پاکستان سے بے پناہ محبت ہے اور اگر اُنہیں موقع ملا تو وہ پاکستان جا کر رہنا پسند کریں گے کیونکہ وہ آج بھی لاہور کو لندن سے بہتر سمجھتے ہیں، اُن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اداکاری سے پاکستان کو آسکر دلوانا چاہتے ہیں اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں