The news is by your side.

Advertisement

گاڑی چلانے والی سعودی خواتین کو ہراساں کرنے والا گرفتار

ریاض : گاڑی چلانے والی سعودی خواتین کو دھمکانے اور حملہ کرنے کے الزام میں الخُبر کے علاقے میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودیہ کی وزرات داخلہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ الخُبر کے علاقے سے والے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں گاڑی ڈرائیو کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے اور اس کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں جس کے لیے ملزم کو جیل بھیج کر مقدمہ پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کردیا گیا ہے۔

یاد رہے چند روز قبل ہی سعودی فرمانروا شاہ سلیمان نے سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی کو ہٹا لیا ہے جس کا اطلاق آئندہ سال سے کیا جائے گا۔


 سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی ڈرائیو کرنے کی اجازت مل گئی


شاہ سلیمان کی جانب سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے پر ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو خوش آمدیدی کہتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ہے تاہم کچھ لوگوں نے اسے روایت کشی اور بے جا آزادی سے تعبیر کرتے ہوئے اپنی بنیاد سے انحراف کرنا قرار دیا ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس معاملے پر تاحال کنفیوزن کا شکار ہیں۔

خیال رہے سعودی عرب میں اسلامی قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور اس معاملے کسی قسم کی رعائیت نہیں برتی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ منشیات فروشوں کا سر قلم کرنا ہو یا چورون کے ہاتھ کاٹنے ہوں اس پر کسی بھی قسم کا عالمی دباؤ قبول نہیں کرتے


 اٹھارہ سال سے کم عمر خواتین گاڑی نہیں چلا سکتیں، سعودی وزیرداخلہ


شاید یہی وجہ ہے کہ سعودیہ میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی اور اسے سعودی کلچر کے خلاف سمجھا جاتا رہا ہے تاہم اب شاہ سلیمان کی جانب سے اس پابندی کو ختم کرنے کے فیصلے کو جہاں سراہا جا رہا ہے وہ کچھ بنیاد پرست اسے متشدانہ نقطہ نظر سے دیکھ رہے

چنانچہ سعودی عرب کا روایتی لباس زیب تن کیئے ایک شخص کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا کی زینیت بنا ہے جس میں اس نے گاڑی چلانے والی خواتین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر اس خاتون ڈرائیور اور اس کی گاڑی کو جلا دوں گا جس کی وجہ سے کوئی حادثہ پیش آ جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں