The news is by your side.

Advertisement

ہل اسٹیشن…

ان دنوں مرزا کے اعصاب پر ہل اسٹیشن بری طرح سوار تھا، لیکن ہمارا حال ان سے بھی زیادہ خستہ تھا۔ اس لیے کہ ہم پر مرزا اپنے متاثرہ اعصاب اور ہل اسٹیشن سمیت سوار تھے۔ جان ضیق میں تھی۔ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اسی کا ذکر، اسی کا ورد۔

ہُوا یہ کہ وہ سرکاری خرچ پر دو دن کے لیے کوئٹہ ہو آئے تھے اور اب اس پر مچلے تھے کہ ہم بلا تنخواہ رخصت پر ان کے ساتھ دو مہینے وہاں گزار آئیں جیسا کہ گرمیوں میں شرفا و عمائدینِ کراچی کا دستور ہے۔ ہم نے کہا سچ پوچھو تو ہم اسی لیے وہاں نہیں جانا چاہتے کہ جن لوگوں کے سائے سے ہم کراچی میں سال بھر بچتے پھرتے ہیں وہ سب مئی جون میں وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔

بولے ٹھیک کہتے ہو، مگر بندہ خدا اپنی صحت تو دیکھو۔ تمہیں اپنے بال بچوں پر ترس نہیں آتا؟ کب تک حکیم ڈاکٹروں کا پیٹ پالتے رہو گے؟ وہاں پہنچتے ہی بغیر دوا کے چاق و چوبند ہو جاؤ گے۔ پانی میں دوا کی تاثیر ہے اور (مسکراتے ہوئے) کسی کسی دن مزہ بھی ویسا ہی۔ یوں بھی جو وقت پہاڑ پر گزرے، عمر سے منہا نہیں کیا جاتا۔ مکھی مچھر کا نام نہیں۔ کیچڑ ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ اس لیے کہ پانی کی سخت قلت ہے۔ لوگوں کی تن درستی کا حال تمہیں کیا بتاؤں، جسے دیکھو گالوں سے گلابی رنگ ٹپکا پڑ رہا ہے۔

ابھی پچھلے سال وہاں ایک وزیر نے اسپتال کا افتتاح کیا تو تین دن پہلے ایک مریض کو کراچی سے بلوانا پڑا اور اس کی نگرانی پر چار بڑے ڈاکٹر تعینات کیے گئے کہ کہیں وہ رسمِ افتتاح سے پہلے ہی صحت یاب نہ ہو جائے۔

ہم نے کہا آب و ہوا اپنی جگہ مرہم دوا کے بغیر اپنے تئیں نارمل محسوس نہیں کرتے۔ بولے، اس کی فکر نہ کرو۔ کوئٹہ میں آنکھ بند کر کے کسی بھی بازار میں نکل جاؤ، ہر تیسری دکان دواؤں کی ملے گی اور ہر دوسری دکان تنوری روٹیوں کی۔

پوچھا اور پہلی دکان….؟ بولے، اس میں ان دکانوں کے لیے سائن بورڈ تیار کیے جاتے ہیں۔ ہم نے کہا، لیکن کراچی کی طرح وہاں قدم قدم پر ڈاکٹر کہاں؟ آج کل تو بغیر ڈاکٹر کی مدد کے آدمی مر بھی نہیں سکتا۔ کہنے لگے چھوڑو بھی! فرضی بیماریوں کے لیے تو یونانی دوائیں تیر بہ ہدف ہوتی ہیں۔

ہمارے بے جا شکوک اور غلط فہمیوں کا اس مدلل طریقے سے ازالہ کرنے کے بعد انہوں نے اپنا وکیلوں کا سا لب و لہجہ چھوڑا اور بڑی گرم جوشی سے ہمارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر، ’’ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں‘‘ والے انداز میں کہا، ’’بھئی! اب تمہارا شمار بھی حیثیت داروں میں ہونے لگا، جبھی تو بنک کو پانچ ہزار قرض دینے میں ذرا پس و پیش نہ ہوا۔ واللہ! میں حسد نہیں کرتا۔ خدا جلد تمہاری حیثیت میں اتنی ترقی دے کہ پچاس ہزار تک مقروض ہو سکو۔ میں اپنی جگہ صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ اب تمہیں اپنے مساوی آمدنی والوں کی طرح گرمیاں گزارنے ہل اسٹیشن جانا چاہیے۔ یہ نہیں تو کم از کم چُھٹی لے کر گھر ہی بیٹھ جایا کرو۔ تمہارا یوں کھلے عام سڑکوں پر پھرنا کسی طرح مناسب نہیں۔

میری سنو 1956 کی بات ہے، گرمیوں میں کچھ یہی دن تھے۔ میری بڑی بچّی اسکول سے لوٹی تو بہت روہانسی تھی۔ کریدنے پر پتہ چلا کہ اس کی ایک سہیلی جو وادیِ سوات جار ہی تھی، طعنہ دیا کہ کیا تم لوگ نادار ہو، جو سال بھر اپنے ہی گھر میں رہتے ہو۔ صاحب! وہ دن ہے اور آج کا دن، میں تو ہر سال مئی جون میں چھٹی لے کر مع اہل و عیال ’’انڈر گراؤنڈ ‘‘ ہو جاتا ہوں۔

پھر انہوں نے کراچی کے اور بھی بہت سے ‘زمین دوز’ شرفا کے نام بتائے جو انہی کی طرح سال کے سال اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں۔

اپنا یہ وار کارگر ہوتا دیکھا تو ’’ناک آؤٹ‘‘ ضرب لگائی۔ فرمایا، ’’تم جو ادھر دس سال سے رخصت پر نہیں گئے تو لوگوں کو خیال ہو چلا ہے کہ تم اس ڈر کے مارے نہیں کھسکتے کہ دفتر والوں کو کہیں یہ پتہ نہ چل جائے کہ تمہارے بغیر بھی بخوبی کام چل سکتا ہے۔‘‘

(نام وَر ادیب اور طنز و مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں