The news is by your side.

Advertisement

صاحبِ اسلوب ادیب مختار مسعود کی ایک تصویر کا ماجرا

’’آوازِ دوست‘‘ کا انتساب کچھ یوں تھا: ’’پرِ کاہ اور پارۂ سنگ کے نام

وہ پرِ کاہ، جو والدہ مرحومہ کی قبر پر اُگنے والی گھاس کی پہلی پتّی تھی اور وہ پارۂ سنگ جو والد مرحوم کا لوحِ مزار ہے۔‘‘

آوازِ دوست وہ کتاب تھی جس نے ادبی دنیا کو ایک ایسے اسلوب اور طرزِ تحریر سے آشنا کیا، جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ اس کتاب کا صرف ’’انتساب‘‘ ہی لاجواب نہ تھا بلکہ اس کا ’’دیباچہ‘‘ بھی انفرادیت لیے ہوئے تھا۔ اسے سبھی نے سراہا۔ دیباچہ میں‌ لکھا تھا کہ’’اس کتاب میں صرف دو مضمون ہیں۔ ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر۔ ان دونوں مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے۔ فکر سے مُراد فکرِ فردا ہے اور خون سے خونِ تمّنا۔‘‘

اس کے مصنّف مختار مسعود تھے جو علم و ادب کی دنیا میں‌ ممتاز ہوئے اور ایسے کہ صاحبِ اسلوب کہلائے۔ ان کی کتاب سے ایک پارہ آپ کے ذوق کی نذر ہے، وہ لکھتے ہیں۔

”میں قائدِاعظم کے سامنے کھڑا ہوا اور کانپتی ہوئی آواز میں ایک نظم پڑھی، میں نے چند ماہ پہلے میٹرک پاس کیا تھا اور یونیورسٹی میں کسی موقع پر ترنّم سے نظم پڑھنے کا یہ پہلا اور آخری واقعہ تھا۔

یہ نظم میرے استاد مولانا عقیل الرّحمان ندوی کی لکھی ہوئی تھی۔ عقیل الرّحمان صاحب اسکول میں فارسی پڑھایا کرتے تھے اور ان میں بہت سی خوبیاں جمع تھیں۔ علم، شاعری، اخلاق، خود داری۔

ان کی زندگی سادگی اور فقر سے عبارت تھی۔ ان کی نظر میں کچھ ایسا اثر تھا کہ اس کا فیض میں آج بھی اپنی زندگی میں پاتا ہوں۔

میں گیارہ بارہ برس کا تھا تو شہر میں پاسپورٹ سائز کی تصویر کھینچنے کی ایک خود کار مشین نصب ہوئی۔ میں نے شوق سے تصویر اتروائی اور دوسرے دن اسے اسکول لے گیا۔ سبق ہو رہا تھا مگر جو لڑکا میرے ساتھ بیٹھا تھا اس نے تصویر لے کر پہلے دیکھی اور پھر چپکے سے آگے بڑھا دی۔ وہ تصویر ہاتھوں ہاتھ کلاس میں بہت دور نکل گئی۔ بالآخر مولانا عقیل الرّحمان نے دیکھ لیا۔ پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، جس کے ہاتھ میں تصویر تھی اس نے ڈر کر اسے استاد کی میز پر رکھ دیا۔ سب اس انتظار میں تھے کہ اب ڈانٹ پڑے گی اور سزا ملے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ مولانا نے تصویر کو غور سے دیکھا پھر اس پر سعدی شیرازی کا ایک دعائیہ شعر اپنے خوب صورت خط میں لکھ کر مجھے تصویر واپس کر دی۔ یہ تحریر اور تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔

اور وہ نصیحت جو مولانا نے مجھے ایک بار کی تھی اس کا نقش بھی میرے دل پر آج تک اسی طرح محفوظ ہے۔ میں نے اقبال کی ایک طویل نظم بھی اس شفیق استاد سے کوئی دو ہفتے تک ان کے گھر جا کر پڑھی۔ وہ اقبال کے سلسلے میں میرے خضرِ راہ ثابت ہوئے۔ اقبال سے ان کو بہت عقیدت تھی اور وہ نظم جو خاص طور پر قائدِاعظم کی آمد پر لکھی گئی اور اسٹریچی ہال میں مجھے پڑھنے کے لیے دی گئی وہ بھی اقبال کی زمین میں تھی۔ ان دنوں سیاسی جلسوں میں اکثر طلوعِ اسلام کا وہ بند پڑھا جاتا تھا، جس کا پہلا مصرع یہ ہے:

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

اسی بند میں اقبال کا وہ مصرع بھی شامل ہے، جسے جوہری توانائی کے بارے میں شاعرانہ دریافت کی سند کے طور پر پیش کرتے ہیں، مصرع یہ ہے:

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّہ کا دل چیریں

مولانا عقیل الرّحمان نے اس مصرع میں یوں تصرف کیا:

محمدﷺ ہی لکھا ہو گا اگر مسلم کا دل چیریں

اس نظم کے پڑھنے کے چند ماہ بعد مولانا عقیل الرّحمان ندوی جوانی میں انتقال کرگئے اور ان کی وہ بچیاں یتیم ہوگئیں جن کے نام انھوں نے محمدی اور احمدی رکھے تھے۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں