The news is by your side.

Advertisement

عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ، ملزمان اپنے بیان سے مکر گئے

اسلام آباد: ڈاکٹر  عمران فاروق قتل کیس میں نیا موڑ  آگیا، مجسٹریٹ کے رو برو  اعتراف جرم کرنے والے دونوں ملزمان اپنے بیان سے مکر گئے۔

تفصیلات کے مطابق  16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق  کیس میں گرفتار ملزمان نے اپنے پرانے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کر دی.

ملزم خالد شمیم کاکہنا ہے کہ بیان قلم بند کرنے سے پہلے خوف کے سائے میں رکھا گیا، تشدد بھی کیا گیا، مجسٹریٹ نے میری مرضی کے خلاف تفتیشی افسرکی ہدایت پر بیان ریکارڈ کیا.

دوسرے گرفتار ملزم محسن علی نے کہا کہ تشدد کے باوجوداعترافی بیان نہیں دیا، مجسٹریٹ کو تشدد کی شکایت کی، پہلے سے تیاراعترافی بیان پرمہر لگائی گئی.

ملزمان کے بیانات ان کے وکلا نےاسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرا دیے۔

 مزید پڑھیں: عمران فاروق قتل کیس فیصلہ کن موڑ پر، ایف آئی اے نے شہادتیں مکمل کرلیں

خیال رہے کہ 28 مارچ 2019 کو ایف آئی اے نے ساڑھے تین سال بعد شہادتیں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا، ساتھ ہی انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی ملزمان کا بیان قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اد رہے کہ ایف آئی اے نے 2015 میں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبے میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ قتل کے الزام میں تین ملزمان محسن علی سید، معظم خان، خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ایک اور ملزم کاشف خان کامران کی موت کا دعویٰ کیا گیا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں