The news is by your side.

کچھ نہ کرکے بھی لاکھوں روپے کمانے والے نوجوان کا انوکھا پیشہ

دنیا بھر میں افراد اپنے خاندان کی کفالت اور دولت کمانے کیلیے کام کرتے ہیں لیکن ایک ایسا نوجوان بھی ہے جو کچھ نہ کرکے بھی پیسہ کمانے کا ہنر جانتا ہے۔

’محنت میں عظمت ہے‘ سب لوگ بچپن سے یہ مقولہ سن کر بڑے ہوتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرکے زندگی گزارتے بھی ہیں لیکن اسی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو محنت سب سے مشکل کام لگتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بغیر کچھ کیے سب کچھ مل جائے جو ناممکن لگتا ہے لیکن وقت کے ساتھ بدلتی دنیا نے بہت سارے ناممکنات کو ممکن کر دکھایا ہے تو اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔

جاپان میں ایک نوجوان ہے جو بغیر کچھ کیے روزانہ اچھی خاصی معقول رقم کما لیتا ہے۔

ایک برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹوکیو کے رہائشی 38 سالہ شوجی موریموتو وہ نوجوان ہے جس کو عملی طور پر کوئی کام نہیں کرنا پڑتا اور اس نہ کرنے والے کام سے ہی وہ 10 ہزار ین (71 ڈالر) پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 16 ہزار روپے فی گھنٹہ کما لیتا ہے۔

شوجی موریموتو بغیر کچھ کام کیے کیسے لاکھوں روپے ماہانہ کما لیتا ہے اس بارے مین اس نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا۔

موریموتو کے مطابق اس نے خود کر کرائے پر دے رکھا ہے یعنی وہ اپنے کلائنٹ کے ساتھ فارغ وقت گزارنے کا معاوضہ لیتا ہے۔ میرا کام اپنے کلائنٹس کے ساتھ صرف ان کے ساتھ وقت گزارنا ہے اور کچھ نہیں اور اسی کے ذریعے میں اپنی کمائی کرتا ہوں۔

ایسا نہیں ہے کہ موریموتو جاپان کی کوئی مشہور یا پرکشش شخصیت ہو جس کے ساتھ لوگ وقت گزارنا چاہتے ہوں بلکہ وہ ایک عام شکل وصورت والا نوجوان ہے جس کے ٹوئٹر پر چار لاکھ کے قریب فالوورز ہیں جن میں سے زیادہ تر ان کے کلائنٹس ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس نے ڈھائی سو سے زائد مرتبہ وقت گزار کر خطیر معاوضہ ادا کیا۔

اس کچھ نہ کرنے والے کام میں بھی موریموتو کی کچھ شرائط ہیں جیسا کہ اسے گزشتہ دنوں کمبوڈیا سے ایک اچھی آفر آئی تھی لیکن اس نے ٹھکرا دیا کیونکہ اسے اس کے لیے وہاں منتقل ہونا تھا جو اسے منظور نہ تھا۔

اپنے اس انوکھے پیشے سے قبل موریموتو ایک اشاعتی ادارے میں کام کرتا تھا جہاں اسے اکثر کام خراب کرنے پر ڈانٹ کے ساتھ یہ بھی سننا پڑتا تھا کہ ’’وہ کچھ بھی نہیں کرتا‘‘۔

یہ کچھ بھی نہ کرنے والا طعنے نے اس کی زندگی کو ایک نیا رخ دیا اور اس نے اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلیے اپنی کچھ نہ کرنے کی صلاحیت کو بطور سروس کلائنٹس کو فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

موریموتو نے اپنے اس انوکھے کام کو ’کمپینین شپ‘ کا نام دیا اور یہی اب اس کا آمدنی کا ذریعہ ہے جس سے وہ اپنی اور اہلخانہ کی کفالت کر رہا ہے۔ اسے اس پر فخر ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا کچھ نہ کرنے کا کام بہت اچھا ہے۔

نوجوان نے اگرچہ یہ واضح تو نہیں کیا کہ وہ مجموعی طور پر کتنا ماہانہ کما لیتا ہے لیکن اتنا ضرور بتایا کہ وہ یومیہ ایک سے دو کلائنٹ کے ساتھ وقت گزارتا ہے جب کہ کورونا وبا سے قبل یہ تعداد یومیہ چار تک ہوتی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں