توہین عدالت کیس، رکن قومی اسمبلی عامرلیاقت پر فردِ جرم عائد
The news is by your side.

Advertisement

توہین عدالت کیس، رکن قومی اسمبلی عامرلیاقت پر فردِ جرم عائد

اسلام آباد : توہین عدالت کیس میں رکن قومی اسمبلی پی ٹی آئی عامر لیاقت پر فرد جرم عائد کردی گئی، جس کے بعد عامر لیاقت نے عدالت سے ایک مرتبہ پھر غیرمشروط معافی مانگی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈاکٹر عامر لیاقت کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں رکن قومی اسمبلی پی ٹی آئی عامر لیاقت پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

وکیل نے کہا عامر لیاقت عدالت سےایک مرتبہ پھر غیرمشروط معافی مانگتے ہیں، انہوں نے پروگرام کیا اس میں توہین عدالت کا کوئی ارادہ نہیں تھا، پروگرام کے کونٹینٹ سے کوئی ایسا تاثر پیدا ہوا ہو تو معافی مانگتے ہیں۔

جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا آپ نے گزشتہ تاریخ پر بھی معافی مانگی تھی، مؤقف سنا آج کی تاریخ فرد جرم عائد کرنے کے لئے مقررکی تھی، مقدمے کی کارروائی میں مناسب وقت پر معافی پر غور کریں گے۔

عدالت نے کہا توہین عدالت کی شق 204تھری کے تحت الزام عائدکیا جاتا ہے، کیا آپ الزام قبول کرتے ہے، جس پر عامرلیاقت نے فردجرم کی صحت سے انکار کیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

گذشتہ سماعت میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت کی معافی کی استدعا مسترد کردی تھی اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عامرلیاقت پرفردجرم آج ہی عائد کی جائے گی۔

بعد ازاں وقت کی کمی کے باعث عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی تھی۔

یاد رہے 11 ستمبر کو سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت کا غیر مشروط معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور 27 ستمبر تک فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ کیا ہم یہاں تذلیل کرانے کے لئے بیٹھےہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں توہین عدالت کرکے معافی مانگ لی جائے۔

چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے وکیل سے استفسار کیا تھا کہ کیا فرد جرم عائد ہونے کے بعد عامر لیاقت رکن قومی اسمبلی رہ سکتے ہیں؟ جس پرعامر لیاقت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد وہ رکن قومی اسمبلی نہیں رہ سکتے۔ خیال رہے کہ عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کی معافی مسترد کردی

واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پرعامر لیاقت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دن میں جواب طلب کیا تھا اور ریمارکس دیئے تھے کہ کیوں نہ عامر لیاقت کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا جائے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا ایک ایسا شخص جسے یہ معلوم نہیں کہ پبلک فورم پر کیسے بولنا ہے، کیا ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہے۔

اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے خطاب کے کلپس طلب کرلئے تھے اور کہا تھا کہ ہرکوئی خود کو عالم، ڈاکٹر اور فلسفی سمجھتا ہے جبکہ عدم حاضری پر بھی اظہار برہمی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ کیوں نہیں آئے یہ توہین عدالت کا کیس ہے، کیوں نہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں