The news is by your side.

Advertisement

خلیفہ عبدُالملک بن مروان اور چور

’’اموی خلیفہ عبدُالملک بن مروان کے دربار میں ایک آدمی چوری کے جرم میں گرفتار کرکے لایا گیا۔ جرم کی نوعیت ایسی تھی جس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔

خلیفہ نے ہاتھ کاٹنے کے احکام جاری کیے اور چور نے یہ سزا سنتے ہی فی البدیہہ دو شعر کہے، جن کا خلاصہ و ترجمہ یہ ہے: امیرُالمؤمنین! میں اپنے ہاتھ کو آپ کے درگزر کے ذریعے بچاتا ہوں، اس ملامت سے جو اسے عیب دار بنادے۔ جب بائیں ہاتھ کو دایاں ہاتھ داغِ مفارقت دے جائے، پھر دنیا اور اس کی نعمتوں میں کوئی بھلائی نہیں۔

یہ سن کر خلیفہ نے کہا: ’’یہ تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور یہ سزا بہرصورت جاری ہوگی۔‘‘ چور کی بوڑھی ماں جو موقع پر موجود تھی، اس نے خلیفہ کا ارادہ بھانپ لیا کہ یہ اس کے بیٹے کو سزا ہی دے گا تو اس نے کہا: ’’امیر المؤمنین! یہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جو میرے لیے جدوجہد کرتا ہے، محنت کرتا ہے اور کما کر مجھے کھلاتا ہے۔ میرے بڑھاپے کی لاج رکھتے ہوئے اسے مجھے ہدیہ کر دو۔ ‘‘خلیفہ نے کہا: ’’ہرگز نہیں! تمہارا کمانے والا بیٹا بُرا مال کمانے والا ہے اور تمہارا محنت کرنے والا بیٹا بری محنت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا کو میں نہیں ٹال سکتا۔‘‘

بڑھیا کہنے لگی: ’’امیرالمؤمنین! بے شک اس طرح کرنا گناہ ہوگا، لیکن آپ اسے ان گناہوں میں سے ایک گناہ بنا دیجیے، جس پر بعد میں استغفار کرسکتے ہیں۔‘‘خلیفہ کو یہ سن کر رحم آگیا اور مجرم کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

( حکایت از امام اصمعیؒ )

Comments

یہ بھی پڑھیں