The news is by your side.

Advertisement

عبدالستارایدھی کی وفات پرسیاسی رہنماؤں کی تعزیت، قرآن خوانی کا انعقاد

کراچی / ٹنڈو الہٰ یار: عبدالستار ایدھی کی وفات پرفیصل ایدھی سے تعزیت کیلئے سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی پہنچ گئی۔ ملک بھر میں عبدالستار ایدھی کے سوئم پر دعائیں اور فاتحہ خوانی کی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فخر انسانیت عبدالستارایدھی کی وفات پر ان کے اہل خانہ سےتعزیت کرنے سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

پپلزپارٹی کےقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسید خورشید شاہ، اسپیکرسندھ اسمبلی سراج درانی کے ہمراہ عبدالستارایدھی مرحوم کی رہائش گاہ پہنچے اور ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی سے تعزیت کااظہار کیا، دونوں رہنماؤں نےمیڈیا سے گفتگو میں عبدالستار ایدھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ایم کیوایم رہنما ڈاکٹرفاروق ستار نے فیصل ایدھی سے ملاقات میں تعزیت کی اوراپنے تاثرات پیش کئے، علاوہ ازیں ن لیگ کی رہنما تہمینہ درانی نے کراچی میں فیصل ایدھی ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبدالستار ایدھی کوئی حکمران نہیں بلکہ عوام کے حقیقی خادم تھے۔

عبدالستار کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے ان کے غم اوردکھ میں شریک افراد کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایدھی صاحب کا مشن کامیابی سے لے کر چلنے کی ہمت دے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایدھی صاحب کی ہدایت کے مطابق ان کی دونوں آنکھیں عطیہ کردی گئی ہیں اور جنہیں یہ آنکھیں لگائی گئی ہیں وہ اب دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب عبدالستار ایدھی کی قبر پر بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے، کراچی میں ایدھی ہوم کے یتیم خانوں میں مقیم بچے اپنے سرپرست کی قبر پرفاتحہ خوانی کے لئے پہنچ گئے۔

خادم انسانیت عبدالستار ایدھی کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے شہریوں اور اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایدھی ہومز میں پرورش پانےوالے یتیم بچے بھی اپنے محسن کی قبر پرپہنچے اور ہاتھ اٹھا کر ان کی مغفرت کیلئے دعا کی۔

اس کے علاوہ عبدالستار ایدھی کے ایصال ثواب کے لیے ایس ایس پی آفس ٹنڈو الہٰ یار میں قرآن خوانی کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع بھر کے پولیس افسران و اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

، اس موقع پر ان کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی و دعا کی گئی، بعدازاں ایس ایس پی شاہ جہاں پھٹان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عبدالستار ایدھی انسانیت کا علمبردار تھے اس شخصیت کو کسی ایوارڈ کسی تمغے اور نہ کسی شہرت کی ضرورت تھی بلکہ وہ صرف انسانیت کی خدمت میں مصروف تھے۔ ان کی شخصیت غریبوں کہ لیے مسیحا اور امیروں کیلئے رول ماڈل تھی۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں