لاہور : قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا 117 واں یوم ولادت آج منایا جارہا ہے۔
قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری ایک نامور شاعر اور نثرنگار ہیں، آپ 14 جنوری 1900 کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور آزادی کے وقت آپ لاہور منتقل ہوگئے، آپ کا قلمی نام ’ابولاثر‘ تھا۔
حفیظ جالندھری کا فنی کارنامہ اسلام کی منظوم تاریخ ہے جس کا نام ’شاہ نامۂ اسلام‘ ہے لیکن آپ کی وجۂ شہرت پاکستان کا قومی ترانہ ہے، آپ کی خدمات کے صلے میں آپ کوشاعرِاسلام اور شاعرِ پاکستان کے خطابات سے نوازا گیا، اس کے علاوہ دیگر اعزازات میں انہیں ہلال امتیاز اور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
ہم ہی میں نہ تھی کوئی بات یاد نہ تم کو آسکے
تم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بُھلا سکے
تقسیم ہند سے قبل ہی وہ اپنی ادبی حیثیت منوا چکے تھے، انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے. انہوں نے سلیس اردو کے استعمال سے غزل کو فطری رنگ عطا کیا۔
آپ کا موضوع سخن فلسفہ اورحب الوطنی ہے، آپ کی بچوں کے لئے لکھی تحریریں بھی بے حد مقبول ہیں، آپ غزلیہ شاعری میں کامل ویکتا تھے، 1925 میں’نغمہ زار‘ کے نام سے حفیظ کا پہلامجموعہ کلام شائع ہوا۔
ملکہ پکھراج کا گایا ہوا شہرہ آفاق گیت ابھی’تومیں جوان ہوں‘ بھی اسی مجموعے میں شامل تھا۔
حفیظ جالندھری21دسمبر 1982 کو انتقال فرما گئے اس وقت آپ کی عمر82 سال تھی۔
پاک سرزمین شاد باد کے خالق ابوالاثرحفیظ جالندھری کے یوم ولادت کے موقع پر ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں نشست کا انقعاد کیا گیا ہے، جس کی صدارت سابق صدر چئیرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ کرینگے۔
تقریب کے مہمان خصوصی قومی ترانہ فائونڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹرعزیزاحمد ہاشمی ہونگے، تقریب کےآغاز سے قبل گریٹر اقبال پارک میں واقع حفیظ جالندی کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی کی جائیگی۔