The news is by your side.

اے آر وائی کو بند رکھنا اب توہین عدالت ہوگی، ماہر قانون

ماہر قانون ابوذر سلمان نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے پر کہا ہے کہ اب چینل بند رکھنا توہین عدالت ہوگی۔

ماہر قانون ابوذر سلمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا چینل بندش کا فیصلہ بھی سندھ ہائی کورٹ نے معطل کیا۔ عدالتی حکم کے باوجود چینل نہ کھول کر پہلے ہی توہین عدالت ہوچکی ہے۔ اب اگر اے آر وائی کو مزید بند رکھا گیا تو یہ بھی توہین عدالت ہوگی۔

اے آر وائی نیوز  براہِ راست دیکھیں 

ابوذر سلمان نے کہا کہ عدالتی حکم کا مذاق اڑایا گیا اس پرعمل نہیں کیا گیا، پیمرا ابھی بھی چینل بحال کردے تو بہتری ہوسکتی ہے۔ آج تو کورٹ نے این او سی منسوخی کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا ہے۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ وجہ بتائے بغیر این او اسی منسوخ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ نہ صرف این او سی معطلی کی وجہ بتانی ہوتی ہے بلکہ ثبوت بھی دینا ہوتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ بھی اس حوالے سے فیصلہ دے چکی ہے۔ قانون اور عدالت کے حکم کا مذاق نہیں اڑانا، یہ بادشاہت نہیں ہے اور اے آر وائی نیوز کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے اے آر وائی نیوز کے این او سی منسوخ کرنے کے نوٹیفکیشن کو معطل کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: حق کی فتح : اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کرنے کا نوٹی فکیشن معطل

سندھ ہائی کورٹ میں اے آر وائی نیوز کی جانب سے این او سی منسوخ کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا گیا تھا جس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے این او سی منسوخ کرنے کے نوٹی فکیشن پرعمل درآمد معطل کیا۔

عدالت نے 17 اگست کے لیے فریقین کو نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں