site
stats
پاکستان

استعفے فوری منظورکیےجائیں، مزیدمذاکرات نہیں کریں گے، فاروق ستار

کراچی: ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومت کو اختیارات استعمال کرکے مسائل حل کرنے کا مشورہ دے دیا، کہتے ہیں کہ اگر کسی ادارے کا معاملہ ہے تو حکومت اس سے بات کرے۔ استعفوں کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ حکومت کی صوابدید ہے۔

کراچی ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت معاملات اپنے ہاتھ میں لے اور اختیارات استعمال کرکے مسائل حل کرے، انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طویل مشاورت کے بعد مذاکراتی عمل سے باہر آنیکا فیصلہ کیا، ہمارے 3 بنیادی مطالبات اب بھی موجود ہیں، استعفے منظور ہوں یا نہ ہوں ہمارے تحفظات دور کئے جانے چاہئیں۔

فاروق ستار نے دفاتر کھولنے، فلاحی سرگرمیوں کی اجازت اور الطاف حسین کے خطاب پر پابندی ختم کرنے کے حوالے سے بتایا کہ تین مطالبات میں سے ایک بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

 فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومت کا طرز عمل غیر سنجیدہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو تمام حقائق سے آگاہ کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے حکومت کی ایماء پر مذاکرات کے مراحل طے کئے تھے،ان کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم رہے گا۔ تاہم مولانا فضل الرحمان نے گلہ ہے کہ انھیں کل کے مذاکرات میں شرکت کرنا چاہیے تھی۔

ایم کیو ایم رہنماء نے کہا کہ کراچی سے جرائم کا مستقل خاتمہ ہمارا بھی مطالبہ ہے لیکن جس کارکن نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا اسے گرفتار کرنا سیاسی انتقام ہے۔ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ایسے لگتا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں بدترین آمریت نافذ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری شکایات کا ازالہ کرنا وزیراعظم کا فرض ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو کہا تھا کہ ریاستی اداروں کے بڑوں سے بات کرنی ہے تو کریں۔ ہمارے آئینی حقوق پامال ہو رہے ہیں، وزیراعظم بتائیں کہ آئین کی کس شق کی خلاف ورزی کے تحت خطاب پر پابندی لگائی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top