اثاثہ جات ریفرنس: 16 سال میں اسحاق ڈار کی دولت میں91 گنا اضافہ ہوا -
The news is by your side.

Advertisement

اثاثہ جات ریفرنس: 16 سال میں اسحاق ڈار کی دولت میں91 گنا اضافہ ہوا

اسلام آباد : احتساب عدالت میں اسحاق ڈارکے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ نے انکشاف کیا کہ سابق وزیرخزانہ کی دولت میں 16 سال کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔

احتساب عدالت میں استغاثہ کے 6 گواہان شکیل انجم، ڈپٹی ڈائریکٹرنیب اقبال حسن ، عمردراز گوندل، محمد اشتیاق، ڈسٹرکٹ افسرانڈسٹریزاصغرحسین اورنیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاورمنظورنے بیانات قلمبند کرائے۔

گواہ شکیل انجم نے عدالت میں بیان دیا کہ جےآئی ٹی ریکارڈ کے لیے سپریم کورٹ کو10 اگست کو خط لکھا، 15 اگست کو دوبارہ درخواست دی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت کوبتایا کہ جےآئی ٹی کے تصدیق شدہ ریکارڈ کے لیے سپریم کورٹ کو درخواست دی، سپریم کورٹ نے 17اگست 2017 کو کورنگ لیٹردیا جس پراسسٹنٹ رجسٹرارکے دستخط موجود تھے۔

شکیل انجم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے والیم ایک سے 10 تک کی 3 کاپیاں دیں، سپریم کورٹ سے ملنے والے ریکارڈ میں سے ایک کاپی آئی اولاہورکودی اورتفتیشی افسرلاہور کے سامنے پیش ہوا اوربیان قلمبند کرا دیا۔

دوسرے گواہ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب اقبال حسن نے عدالت کو بتایا کہ بینکنگ ایکسپرٹ ظفراقبال نے بینک کریڈٹ رپورٹ 31 اگست کوتیارکی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ بینک کریڈٹ انکلوژر رپورٹ 4 صفحات پرمشتمل تھی، تفتیشی افسر نےمیرے سامنے ریکارڈ بند کیا۔

گواہ عمردراز گوندل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی ہدایت پرطلبی سمن لے کر اسحاق ڈار کی گلبرگ والی رہاش گاہ پرپہنچا تو وہاں موجود پولیس کانسٹیبل نے بتایا کہ اسحاق ڈار اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تعمیل نہ ہونے پرسمن واپس تفتیشی افسر کے حوالے کردیے۔

استغاثہ کے چوتھے گواہ کمشنران لینڈ ریونیولاہور اشتیاق احمد نے اسحاق ڈارکا 1979 سے 1993 تک اور 2009 سے 2016 تک کا ٹیکس ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

اسحاق ڈار کے اثاثوں کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے اشتیاق احمد نے انکشاف کیا کہ جون 1993 میں اسحاق ڈار کے کُل اثاثے 91 لاکھ 12 ہزار سے زائد تھے جو جون 2009 تک 83 کروڑ 16 لاکھ 78 ہزار سے زائد ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صرف 16 سال میں اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 91 فیصد اضافہ ہوا۔ گواہ نےعدالت کو بتایا کہ 1993 اور 2009 کے ویلتھ ریکارڈ کاجائزہ لینے سے پتہ چلا دولت کئی گنا بڑھی۔

استغاثہ کے گواہ نے انکم ٹیکس کے گواشوروں کے مطابق جون 1993 میں اسحاق ڈار کی آمدن 7 لاکھ 29 ہزار سے زائد تھی جبکہ 2009 میں ان کی آمدن بڑھ کر 4 کروڑ 64 لاکھ 62 ہزار سے زائد ہوگئی تھی۔

استغاثہ کے پانچویں گواہ ڈسٹرکٹ افسرانڈسٹریزاصغرحسین نےعدالت کو بتایا کہ ہجویری آرگن ٹرانسپلانٹ ٹرسٹ کے ڈائریکٹرز کی تفصیلات نیب کوفراہم کیں۔

اصغرحسین نے بتایا کہ ڈائریکٹرزکے شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی نیب کودی گئیں، اسحاق ڈارہجویری آرگن ٹرانسپلانٹ ٹرسٹ کےصدرتھے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹرزمیں سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصرمحمود کھوسہ بھی شامل تھے جبکہ ٹرسٹ کی رجسٹریشن فیس کی رسید بھی نیب کوفراہم کی۔

استغاثہ کےچھٹے گواہ نیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاورمنظور نے عدالت کو بتایا کہ میرے سامنےاشتیاق احمد نےاسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ تفتیشی افسرکوجمع کرایا۔

زاورمنظورنے کہا کہ سعیداحمد ، واصف حسین، قمرزمان، شیردل، شاہدعزیز، محمد نعیم، طارق جاوید، کا بیان میری موجودگی میں ریکارڈ ہوا۔

نیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ عبدالرحمان گوندل اور فیصل شہزاد بھی میری موجودگی میں پیش ہوئے۔

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں استغاثہ کے 28 میں سے 24 گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے گئے جبکہ نیب نے مزید 2 گواہان کوطلب کرنے کی اجازت مانگ لی۔

نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ایس ای سی پی کی سدرہ منصور، سلمان سعید کو پیش کرنا چاہتے ہیں، دونوں نےاسحاق ڈار کی کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ جمع کرایا تھا۔

احتساب عدالت نے گواہان کو پیش کرنے کی اجازت دے دی جبکہ استغاثہ کے گواہ انعام الرحمان بیماری کے باعث آج بیان قلمبند نہ کرا سکے۔

عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس میں استغاثہ کے باقی گواہان کو کل پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت کل ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کردی۔


اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اورکمپنی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش


خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پراحتساب عدالت میں استغاثہ کے پانچ گواہان محمد نعیم، ظفراقبال، قابوس عزیز، سعید احمد خان، اشتیاق احمد کے بیانات قلمبند کیےگئے تھے۔

ظفراقبال نے اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اورکمپنی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں تھیں۔

نیب کے گواہ کی جانب سے پیش کی گئی بینک کریڈٹ رپورٹ 4 صفحات پرمشتمل تھی، رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار، اہلیہ اورکمپنی کے15 اکاؤنٹس تھے۔

استغاثہ کے گواہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ 9 اکاؤنٹس البرکا بینک میں تھے، البرکا بینک میں اکاؤنٹس 8 کمپنیوں کےنام جبکہ ایک تبسم اسحاق کےنام پرہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں