The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کےخلاف نیب ریفرنسزکی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بیشرنے شریف خاندان کے نیب کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنسز کی سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے آغازپرسابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث استغاثہ کے گواہ ملک طیب سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس جو لوگ چیک لاتے تھےانہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔

ملک طیب نے جواب دیا کہ میں ان لوگوں کو ذاتی حیثیت میں نہیں جانتا جس پرنوازشریف کے وکیل نے کہا کہ آپ نے صرف دستیاب دستاویزات کو پڑھ کر بیان دے دیا۔

استغاثہ کے گواہ ملک طیب نے کہا کہ میرے پاس جو ریکارڈ تھا اسی کے مطابق بیان دیا۔

نوازشریف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ استغاثہ کےگواہ آفاق احمد کے بیان کی کاپی فراہم کی جائے۔

نیب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ آفاق احمد کے بیان کی کاپی سپریم کورٹ میں جمع ہے، بیان کی کاپی فراہم کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔

دوسری جانب ایون فیلڈ ریفرنس میں گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرنیب عدیل اختر کا بیان قلمبند کرلیا گیا، خواجہ حارث نے گواہ پرجرح بھی مکمل کرلی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ آج کمرہ خالی خالی نظر آ رہا ہے، ایسا لگتا ہے سب عمران خان کی طرف گئے ہیں میڈیا والے بھی کم ہی نظر آ رہے ہیں۔

عدالت نے شریف خاندان کے خلاف تینوں ریفرنسزکی سماعت 19دسمبرتک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن(ر) صفدرکوطلب کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر نوازشریف کی معاون وکیل نے کہا تھا کہ نورین شہزاد اپنے ادارے کا اتھارٹی لیٹرپیش کرنے میں ناکام رہیں، ان کی دستاویزات کوریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، دستاویزات کوریکارڈ سےخارج کیا جائے۔


نوازشریف کےمختلف بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش


عدالت نے عائشہ حامد کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے نورین شہزاد کی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا تھا۔

استغاثہ کے گواہ ملک طیب کی جانب سے نوازشریف کے مختلف بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں