تیزاب گردی کے جرم میں 60 سال کی سزا -
The news is by your side.

Advertisement

تیزاب گردی کے جرم میں 60 سال کی سزا

لاہور : انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تیزاب گردی کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے منگیتر پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو 60 سال قید اور ہرجانے کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ملزم عصمت اللہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی‘رائل کورٹ کے جج سجاد احمد کو سزا سناتے ہوئے متاثرہ لڑکی کو 39 لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی منگیتر بینش نے اس سے شادی سے انکار کر دیا تھا ‘ اسی رنجش کی بنا پرعصمت اللہ نےڈیفنس کے علاقے میں بینش پر تیزاب پھینکا‘ جس سےمتاثرہ لڑکی کی آنکھیں جھلس گئیں اور چہرہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

شوہر پرتیزاب پھینکنے والی خاتون کو دوبارپھانسی کی سزا*

مجرم عصمت اللہ

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو اس کے شہر بھکر سے گرفتار کرلیا تھا‘ جہاں ملزم نے مقامی سیاستدان کے گھر پر متاثرہ لڑکی کو قید کر رکھا تھا۔پولیس نے عصمت اللہ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ سیکشنز کے تحت دہشت گردی کی دفعات میں مقدمہ درج کرلیا تھا۔

ٹرائل کورٹ کے جج سجاد احمد نے مجرم کو 39 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی سنایا جو متاثرہ لڑکی کو ادا کیے جائیں گے۔

عصمت اللہ کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دو دفعات کے تحت 25، 25 سال قید اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 324 کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

دوسری جانب ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ تیزاب پھینکنے کا الزام غلط ہے ‘ اور اس وقوعے سے ان کے موکل کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں