The news is by your side.

Advertisement

سرد موسم میں معدے کی تکالیف میں اضافہ کیوں ہوتا ہے؟ ماہر ڈاکٹر کے مفید مشورے

کیا ہم کھانا اپنا پیٹ سمجھ کر نہیں کھاتے؟ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھاتے ہیں یا کھانے کے لیے زندہ رہتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں کہ سرد موسم میں معدے کی تکالیف میں اضافہ کیوں ہوتا ہے۔

تلی ہوئی اور چٹ پٹی غذا کے شوقین افراد کن مسائل کا شکار ہوتے ہیں، ایسوسی ایٹ پروفیسر جناح پوسٹ میڈیکل گریجویٹ ڈاکٹر ذیشان نے اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں تفصیلی گفتگو کی۔

انھوں نے کہا قدرت نے ہمیں معدہ ایک مقصد کے لیے دیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھائیں تو اس کے ذریعے ہمارے جسم کی غذائی ضروریات پوری ہوں، جب ہم کھانے پینے میں زیادتی کرتے ہیں تو ہمارے جسم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، زیادہ کھانے سے بھی جسم کو نقصان ہوگا اور کم کھانے سے بھی۔

ڈاکٹر ذیشان نے کہا معدہ ہماری ضروریات پوری کرتا ہے لیکن اگر شوق اتنا بڑھ جائے کہ ضروریات پر حاوی ہو تو صحت کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔

عام طور سے ایک تو ہم زیادہ کھاتے ہیں اور پھر مصالحوں سے بھرپور کھانے کے بھی شوقین ہیں، تو اس سے معدے کے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس کے حوالے سے ڈاکٹر ذیشان کہتے ہیں کہ جنرل پریکٹس میں ہمارے سامنے دو قسم کے مریض بہت زیادہ آتے ہیں، ایک تیزابیت کے اور دوسرے قبض کی شکایت والے۔ ان دونوں مسائل کا ہمارے کھانے کی عادات سے براہ راست تعلق ہے۔

انھوں نے کہا کہ نہ صرف مصالحے دار کھانے مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ کھانے کے اوقات بھی اہم ہوتے ہیں، کہ ہم کتنے وقفے سے کھاتے ہیں، سردیوں میں بالخصوص یہ ہوتا ہے کہ رات کو ہم بستر پر لیٹے ہوتے ہیں رضائی اوڑھ کر اور کچھ نہ کچھ کھا رہے ہوتے ہیں، جس سے معدے پر بہت زیادہ بوجھ پڑ جاتا ہے۔

ڈاکٹر ذیشان کہتے ہیں کہ ہم نے اتنا کھانا ہے جتنا ہم نے جسمانی سرگرمی کرنی ہے، سردیوں کو جسم کو کچھ فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہماری جسمانی سرگرمی بھی اسی حساب سے ہونی چاہیے، اگر آپ 12 گھنٹے کی رات بستر میں لیٹے گزاریں گے، اس میں سے چھ گھنٹے سوئیں گے اور باقی کچھ نہ کچھ کھاتے گزاریں گے تو معدہ اسے برداشت نہیں کرے گا اور اس طرح آپ مسائل کو دعوت دیتے ہیں۔

سردیوں میں خشک میوے شوق سے کھائے جاتے ہیں لیکن ڈاکٹر ذیشان کہتے ہیں کہ ڈرائی فروٹ بھی ایک حد میں کھائے جائیں، ایسا نہ ہو کہ آپ ٹی وی دیکھتے جائیں اور کھاتے جائیں اور پتا بھی نہ چلے کہ کتنا کچھ کھا لیا، ایک خاص مقدار میں ڈرائی فروٹ کھانا صحت بخش تو ہے لیکن زیادہ مقدار میں پھر مسائل ہی پیدا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ڈرائی فروٹ میں کچھ چکنائیاں ہیں جو سردیوں میں مفید ہیں، اور یہ انتہائی اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں، لیکن ایک خاص مقدار میں ہی یہ مفید ہیں، اگر آپ ایک چشمے کی جگہ چار پہنیں گے تو نتیجہ تو بلکہ الٹ نکلے گا۔

ڈاکٹر ذیشان نے کہا کہ تیزابیت کا علاج کولڈ ڈرنک سے کیا جاتا ہے لیکن یہ بالکل غلط ہے، اس سے تیزابیت ختم نہیں ہوتی، بلکہ درست علاج کیا جانا چاہیے، انھوں نے کہا اس مسئلے کا تعلق لائف اسٹائل ہے، اگر اسے درست کیا جائے تو اس مسئلے سے نجات مل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دست اور الٹیوں جیسے مسائل کے لیے ادھر ادھر کے ٹوٹکوں کی جگہ نیوٹریشنل علاج بہتر رہتا ہے، اگر کسی کو بہت زیادہ دست لگ گئے ہیں، تو اس کو دہی یا کیلا دینے سے طبیعت بہتر ہو جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں