The news is by your side.

Advertisement

’امی نے خود اسکول وین چلائی، ہمارے تعلیمی اخراجات پورے کیے‘

اے آر وائی ڈیجیٹل کے مشہور و معروف ڈرامے ’بلبلے‘ میں ’خوبصورت‘ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر نے اپنے بچپن کے مشکل ترین دنوں کے بارے میں بتا دیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں وسیم بادامی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے عائشہ عمر نے بتایا کہ ’جب میں ڈیڑھ سال کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا تھا، اُس کے بعد امی نے میری اور بھائی کی اکیلے پرورش کی ‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور بہت مشکل وقت بھی دیکھا، جس وقت ابو کا انتقال ہوا اُس وقت امی جوان تھیں مگر انہوں نے ہماری خاطر بہت بڑی قربانی دی اور شادی نہیں کی۔

عائشہ عمر نے بتایا کہ والد کے انتقال کے فوراً بعد امی کراچی سے لاہور منتقل ہوئیں تاکہ وہ اس سانحے سے باہر نکل سکیں، ہماری تعلیم بھی وہیں پر ہوئی، امی نے شروع سے ایک ہی خاص چیز پر فوکس رکھا وہ ہماری تعلیم تھیں، وہ چاہتی تھیں کہ ہمیں اچھی تعلیم مل جائے۔

عائشہ عمر نے بتایا کہ ’ہم نے جس اسکول میں داخلہ لیا وہاں کی فیس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ ہمیں پیسوں‌ کے مسائل کا سامنا تھا مگر میرٹ پر اسکالر شپ حاصل کی اور مہنگے اسکول سے ہی اپنی تعلیم کو مکمل کیا‘۔

اداکارہ نے بتایا کہ اسکول کے اخراجات بہت زیادہ تھے، یونیفارم، کتابیں اور دیگر چیزوں کے اخراجات بھی پورے کرنا مشکل تھا مگر امی نے اسکول کے بچوں کے بچوں‌ کی پک اینڈ ڈراپ وین چلائی، ٹیوشنز پڑھائیں، ٹیچنگ کی، پھر پیسے جوڑ جوڑ کر  ہمارے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔

عائشہ عمر نے بتایا کہ ’امی ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں اور کچھ کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت نہیں تھا اس لیے انہوں نے اُسی اسکول کے بچوں کو پنک اینڈ ڈراپ کرنا شروع کیا‘۔

شادی سے متعلق سوال

شادی سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر عائشہ عمر نے بتایا کہ اُن کی زندگی میں کوئی آیا تھا مگر اُس وقت والدہ اور بھائی کی ذمہ داری تھی تو اس لیے نہیں سوچا مگر اب فیملی شروع کرنے کے حوالے سے سوچ رہی ہیں۔

ہراسانی سے متعلق واقعہ

عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ جب 22 سال کی تھیں تو اُن کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ پیش آیا مگر وہ چند وجوہات کی بنا پر نام نہیں‌ بتا سکتیں۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں