The news is by your side.

Advertisement

ناصرہ جس نے “رانی” بن کر لاکھوں دلوں پر راج کیا

پاکستان کی فلم نگری اور سنیما کے شائقین ناصرہ کو رانی کے نام سے پہچانتے ہیں جو 27 مئی 1993 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں۔ آج فلم اور ٹیلی ویژن ڈراموں کی اس مشہور اداکارہ کی برسی منائی جارہی ہے۔

1962 میں ہدایت کار انور کمال پاشا نے انھیں رانی کے نام سے اپنی فلم محبوب میں کاسٹ کیا جس کے بعد متعدد ناکام فلمیں رانی کے حوصلے پست کرتی رہیں، مگر پھر ایک پنجابی فلم نے کام یابیوں کا دروازے کھول دیے۔

فلم دیور بھابی، بہن بھائی، انجمن، شمع، ایک گناہ اور سہی اور کئی دوسری فلمیں یادگار ثابت ہوئیں۔

رانی نے 168 فلموں میں کام کیا جن میں 103 فلمیں اردو میں اور 65 پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ ان کی آخری فلم کالا طوفان تھی جو 1987 میں پردے پر سجی تھی۔ تین نگار ایوارڈز سمیت بہت شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے والی رانی نے پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں میں بھی اداکاری کرکے لوگوں کے دل جیتے۔

رانی اپنے وقت کی مشہور گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھیں اور مختار بیگم ہی نے ان کی تربیت بھی کی۔

اداکارہ رانی نے تین شادیاں کیں اور تینوں ناکام رہیں، اپنے وقت کی یہ مشہور اداکارہ لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں