The news is by your side.

Advertisement

مشہور اداکار ایم اسماعیل کا یومِ وفات

ایم اسماعیل پاکستان کی فلمی صنعت کا ایک مشہور نام ہے جنھوں نے تقسیمِ ہند سے قبل بننے والی فلموں سے اداکاری کا آغاز کیا اور تقسیم کے بعد لاہور کے نگار خانوں کی کئی کام یاب فلموں میں نظر آئے۔ 22 نومبر 1975ء کو ایم اسماعیل وفات پاگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔

اداکار ایم اسماعیل کا تعلق خطاطی کے فن میں مشہور گھرانے سے تھا۔ وہ 6 اگست 1902ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ خطاطی اور مصوّری انھیں ورثے میں ملی تھی۔ 1921ء میں مشہور فلم ساز اے آر کاردار نے جن کا تعلق ان کے محلّے سے تھا، انھیں اداکاری کی طرف راغب کیا اور ایم اسماعیل یہ شوق پورا کرنے کے لیے بمبئی چلے گئے۔ وہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا۔ تاہم جب لاہور میں فلمیں بننے لگیں تو ایم اسماعیل یہاں لوٹ آئے۔ ان کی خاموش فلموں میں حسن کا ڈاکو، آوارہ رقاصہ اور ہیر رانجھا بہت مشہور ہوئیں۔ آخرُ الذکر فلم میں کیدو کا مشہور کردار ایم اسماعیہ نے نبھایا تھا۔

ناطق فلموں کا دور شروع ہوا تو انھیں یہی کردار حورِ پنجاب اور ہیر سیال نامی فلموں میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ ایم اسماعیل نے خزانچی، پھول، سوہنی مہینوال، وامق عذرا اور لیلیٰ مجنوں جیسی کام یاب فلموں میں اداکاری کی۔

پاکستان میں ان کی آخری فلم مان جوانی دا تھی جو 1977ء میں‌ نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ ایم اسماعیل نے مجموعی طور پر 156 فلموں میں‌ کام کیا۔

فلمی دنیا کے اس مشہور اداکار نے لاہور میں وفات پائی اور اسی شہر میں‌ مدفون ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں