The news is by your side.

Advertisement

دوران حمل نشہ کرنے والی خواتین کے بچے بدترین مسائل کا شکار

واشنگٹن: کیا آپ جانتے ہیں امریکا میں 23 ملین افراد منشیات کے عادی ہیں اور الکوحل یا دوسری منشیات استعمال کرتے ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت اور بھی خراب ہوجاتی ہے جب خواتین دوران حمل بھی منشیات کا استعمال جاری رکھتی ہیں نتیجتاً ان کے پیدا ہونے والے بچے پیدائشی طور پر منشیات کے عادی ہوتے ہیں اور بچپن ہی سے بے شمار سنگین طبی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں ہر سال 1 لاکھ 30 ہزار بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جو منشیات کے مضر اثرات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی مائیں دوران حمل منشیات کا استعمال کرتی ہیں۔

ماہرین ایسے بچوں کو پیدائشی شکار بچوں کا نام دیتے ہیں۔

ان بچوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ یہ بچے غیر فطری طور پر کانپنا شروع ہوجاتے ہیں جبکہ انہیں شدید پیٹ میں درد اور ڈائریا بھی ہوتا ہے۔ ان بچوں کے رونے کی آواز بھی دیگر بچوں کی نسبت بلند ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ شدید تکلیف میں ہوتے ہیں۔

کمزور بچے ان بیماریوں سے نبرد آزما نہیں ہو پاتے اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ امریکا میں 2010 سے اب تک 110 نومولود بچے منشیات کا شکار ہونے کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

منشیات کی عادی خواتین کا دوران حمل بحالی مراکز میں علاج بھی کیا جاتا ہے لیکن ان خواتین کی بڑی تعداد ان مراکز میں جانے سے انکار کردیتی ہے۔ وہ اپنی منشیات کی لت پر قائم رہنا چاہتی ہیں۔

امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اسے سنگین بحران قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے اقدمات کرنے پر زور دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں