The news is by your side.

دادو اور سیہون کو بچانے کے لیے منچھر جھیل کو کٹ لگا دیا گیا

کراچی: صوبہ سندھ کے علاقوں دادو اور سیہون کو بچانے کے لیے منچھر جھیل کو کٹ لگا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق دادو اور سیہون کو بچانے کے لیے باغ یوسف کے قریب منچھر جھیل کو کٹ لگا دیا گیا، جس سے کئی یونین کونسلز زیر آب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی جھیل میں سیلانی پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے آر ڈی 14 کے مقام پر کٹ لگایا گیا، منچھر جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے، جس سے بند ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

دانستر کینال سے پانی اوور فلو ہونے لگا، جھیل کے حفاظتی پشتے مختلف مقامات پر کمزور ہونے لگے ہیں، بند ٹوٹنے کے خدشے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ منچھر جھیل میں کٹ لگایا گیا ہے، جس سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی، ان یوسیز سے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کٹ لگنے سے 1 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوں گے، متاثر ہونے والی یوسیز میں واہوڑ، بوبک، جعفرآباد اور یوسی چنو شامل ہیں، تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

کوٹری بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں سے 5 لاکھ 72 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، انتظامیہ نے کچے کے علاقے خالی کرا لیے ہیں۔

ادھر دادو، میہڑ اور جوہی میں ہرطرف پانی ہی پانی ہے، جہاں رکشے اور بسیں چلا کرتی تھیں، وہاں اب کشتیوں میں سفر ہو رہا ہے، بس اسٹاپ بوٹ اسٹاپ میں بدل چکا۔

میہڑ کے رنگ بند پر پانی کا دباؤ مزید بڑھ گیا، شہری دن رات بند کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں، ایم این وی ڈرین میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہے، شہر ڈوبنے کا خطرہ ہے، مکین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سیلاب سے اندرون سندھ اب بھی سیکڑوں بستیاں زیر آب ہیں، متاثرین پینے کے لیے سیلاب کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جیکب آباد میں کھانا نہ ملنے پر سیلاب متاثرین نے احتجاج بھی کیا، ان کا کہنا ہے کہ امدادی سامان من پسند افراد میں تقسیم ہو رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں