The news is by your side.

Advertisement

گردنیں کاٹنے والے اتحاد کرسکتے ہیں تو مہاجر کیوں نہیں؟ آفاق احمد

کراچی: مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ مسلکی بنیاد پر ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے والے جب انتخابات کرنے کے لیے اتحاد کرسکتے ہیں تو مہاجر کیوں نہ کریں؟ 23 جولائی کے جلسے میں آئندہ کا لائحہ عمل دوں گا۔

لانڈھی بیت الحمزہ گراؤنڈ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے جلسے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اداروں کے پسندیدہ افسران کو کارکنان کے خلاف جھوٹی درخواستیں دی جارہی ہیں تاکہ جلسے کے کاموں میں رکاوٹ ڈالی جائے اور کارکنان کو عوام تک جانے سے روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر قومی موومنٹ یا مہاجر قوم کبھی کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتی، میں اپنی قوم کے مستقبل کی پرامن جدوجہد کررہا ہوں جس میں رکاوٹیں ڈالنا کسی صورت صحیح نہیں، مہاجروں کے پاس اتحاد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا، 23 جولائی کے جلسے میں عوام سے اپنے فیصلوں پر رائے لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

آفاق احمد نے کہا کہ کراچی یا ملک کا مسئلہ شخصیت کے ختم ہونے سے حل نہیں ہوگا، ملکی سسٹم کو بچاتے ہوئے مظلوم و محکوم لوگوں کو اُن کے حقوق دیے جائیں تاکہ اتنشار پھیلانے والے افراد دوبارہ پیدا نہ ہوسکیں۔

پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو 18 ہزار ووٹ میری وجہ سے ملے جو اس بات کی غمازی ہے کہ مہاجر عوام آج بھی میری بات کو مانتے ہیں تاہم یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایم کیو ایم لندن کے پاس کارکنان اور مینڈیٹ اب بھی موجود ہے۔

چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ نے مزید کہاکہ بیت الحمزہ ذاتی ملکیت ہے جسے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسمار کیا گیا تھا. دوبارہ تعمیر کے لیے جو بھی قانونی تقاضے ہوتے ہیں وہ سب پورے کریں گے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مہاجر قوم اپنے مسائل کے حل کیلئے اتحاد کا ثبوت دیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں