The news is by your side.

افغانستان کے ٹرمپ نے دنیا میں دھوم مچادی

کابل: افغانی ڈونلڈٹرمپ کی تصویرسوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی افغانستان سمیت پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان  کے پڑوسی ملک افغانستان کی امریکا سے دشمنی کی اپنی ایک تاریخ ہے لیکن شدت پسند سمجھے جانے والے میں اس ملک میں کچھ روشن خیال لوگ بھی رہتے ہیں جو اپنے بچوں کا مستقبل اچھا دیکھنا چاہتے ہیں۔

افغان لوگ امریکا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے امریکی صدر سے متاثر ہوکر اپنے بیٹے کا نام ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھ دیا ہے۔

اٹھارہ ماہ کے افغان ڈونلڈ ٹرمپ کی شناختی نام والی پوسٹ فیس بک پر شیئر کیا ہوئی کہ افغانستان سمیت پوری دنیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہی طرح مشہور ہوگئی۔

سید اسد اللہ کا کہنا تھا کہ انہیں ابتداء میں اندازہ ہی نہیں تھا کہ افغان لوگ ناموں کے معاملے پر بھی اتنی حسّاسیت رکھتے ہیں، کسی نے ہمارے بیٹے کے نام والی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو معاملہ اتنا بڑھا کہ مجھے اپنا فیس بُک اکاؤنٹ  بند کرنا پڑا۔

اسد اللہ کاکہنا تھا کہ جب اپنے بیٹے کے نام والی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے اندازہ ہوا کہ افغانی لوگ امریکا سے کتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھنا تو دور کوئی اور بھی رکھے تو اُس کی جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ایسا ہی کچھ میرے ساتھ  ہوا‘ اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔کچھ قدامت پسندوں نے تو ہمارے بیٹے کو بھی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جانب سے ان کے لیے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، طرح طرح کی آوازیں کستے ہیں اور کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دہا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کا امریکی صدر کے نام اس لیے رکھا ہے تاکہ میں امریکا میں سیاسی پناہ لے سکوں۔

اسد اللہ کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ افغان لوگ اتنے تنگ نظر ہیں۔  میرے بیٹے کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھنے پر میرے پڑوسیوں کی جانب سے بھی مجھے دھمکیاں دی گئی ہیں جس کے باعث اب مجھے گھر سے باہرنکلتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے پریشان رہتا ہوں۔

افغان شہری کا غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بہت زیادہ تحقیق کی پھر ان کی زندگی سے متاثر ہوکر اپنے بیٹے کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھا تاکہ میرا بیٹا بھی بڑا ہوکر ان ہی کی طرح کامیاب اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہو۔

سید اسد اللہ نے بتایا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کاروبار میں کامیابی کے حوالے سے لکھی گئی کتابوں کا فارسی ترجمہ پڑھ رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ ارب پتی امریکی تاجر سے متاثر تھا اورجب ان کے ہاں 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل بیٹے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے پکارنا شروع کردیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں