کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے پی او آر کارڈ ہولڈر افغان مہاجرین کو واپسی کے لیے وقت دینے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ نے نصرت افغانی ایڈووکیٹ کی پٹیشن پر فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے کے تحت پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہولڈر مہاجرین کو مزید 3 ماہ کا وقت مل گیا ہے۔
نصرت افغانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کے پی او آر کارڈز کی مدت 30 جون 2025 تک ہے، سہ فریقی معاہدے کے بعد وفاق کا پریس ریلیز جاری کرنا غیر قانونی ہے۔
سینئر قانون دان نے کہا یو این ایچ سی آر کے ساتھ معاہدے کے بعد مہاجرین کے انخلا کے لیے پریس ریلیز کی حیثیت نہیں ہے، افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق کوئی حکومتی حکم نامہ جاری نہیں ہوا ہے۔
افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار پاکستان کے شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، پاکستان مشن قونصلر
ادھر خیبر پختونخوا کی پولیس نے کہا ہے کہ کے پی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی میپنگ شروع کر دی گئی ہے، جس سے پتا لگایا جائے گا کہ کس جگہ کتنےغیر قانونی افغان باشندے رہائش پذیر ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کی میپنگ کے لیے 90 سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
ٹیموں میں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہیں، افغان باشندوں کی میپنگ کے لیے 200 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات ہیں، پولیس نے پشاور اور خیبر میں افغان باشندوں کی واپسی کے لیے قائم ہولڈنگ سینٹرز کو سیکیورٹی فراہم کی ہے۔
دوسری طرف محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ پنجاب سے 260 افغان باشندوں کو آج طورخم بارڈر سے ڈی پورٹ کیا جائے گا، یہ غیر قانونی افغان باشندے آج خیبر پختونخوا پہنچائے جائیں گے، اور کاغذی کارروائی مکمل کر کے آج ہی افغانستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ کے مطابق 41 افغان باشندے اوکاڑہ اور 46 ساہیوال سے لائے جا رہے ہیں، 47 بہاولپور، 54 رحیم یار خان اور 18 ننکانہ سے منتقل کیے جائیں گے، جب کہ 17 افغانوں کو مظفرگڑھ، 37 کو حافظ آباد سے ہولڈنگ کیمپس منتقل کیا جائے گا۔