The news is by your side.

Advertisement

لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم بھی لازمی ہے: وزیر اعظم افغانستان

کابل: افغان طالبان کا کہنا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم بھی لازمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر اعظم نے کہا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی تعلیم لازمی ہے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق مُلا حسن آخوند نے دارالحکومت کابل اور دیگر جگہوں پر ‘لڑکیوں کو ثانوی تعلیم کے لیے واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی’ کے موضوع پر بات کی۔

طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد قائم مقام وزیر اعظم کی یہ پہلی تقریر نشر کی گئی ہے۔

ہفتے کے روز ملا آخوند نے آڈیو تقریر میں اشارہ دیا کہ حالات سازگار ہوتے ہی لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے گی، انھوں نے کہا ہے کہ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے حصول تعلیم لازمی ہے۔

ملا آخوند کا کہنا تھا کہ جب اسکول ان کے لیے الگ الگ تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گے، تو لڑکیاں رفتہ رفتہ اسکول واپس جائیں گی، افغانستان میں خواتین کسی بھی جگہ جانے کے لیے آزاد ہیں، وہ امن سے مستفید ہو رہی ہیں، اور تعلیم و روزگار حاصل کر سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں