The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں غذائی قلت، کروڑوں افراد اموات کا خدشہ

لندن : افغانستان کی سابقہ حکومت جس عالمی امداد کے سہارے کھڑی تھی وہ اب طالبان کی آمد سے بند ہوچکی ہے جس کے باعث ملک شدید مالی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو امریکہ منجمد کرچکا ہے۔

برطانیہ کی ایک درجن سے زیادہ نمایاں امدادی ایجنسیوں نے افغانستان میں لاکھوں افراد کے لیے قحط کو روکنے کے لیے عوامی عطیات کے لیے ہنگامی اپیل شروع کرنے کےلیے کوششوں کا آغاز کیا ہے۔

برطانیہ کی ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی کے مطابق اگلے تین ماہ میں دس لاکھ بچے غذائی قلت سے مرنے کے خطرے سے دوچار ہیں اور22 ملین سے زیادہ بھوک کے خطرے کا شکار ہوجائیں گے۔

آکسفیم، دی برٹش ریڈ کراس اور دیگر13 خیراتی ادارے مل کر آفت سے بچنے میں مدد کے لیے رقم اکھٹی کرنے کی اپیل شروع کر رہے ہیں۔

برطانوی ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی نے خبردار کیا کہ افغانستان میں کورونا کی وبا، تنازعات اور خشک سالی نے ملک کو ایک "ٹپنگ پوائنٹ” پر پہنچا دیا ہے جس سے8 ملین افراد کو بھوک کا خطرہ لاحق ہے۔

افغانستان بھی ایک چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے میں بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں تھا، ملک کی زیادہ تر گندم کی فصل برباد ہوچکی ہے اور اس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

برطانوی ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیسے ہی منجمند موسم شروع ہوگا صورت حال مزید خراب ہو جائے گی، ہمیں جانیں بچانے کے لیے ابھی کام کرنا چاہیے۔

خیراتی ادارے پہلے سے ہی زندگی بچانے والی امداد فراہم کررہے ہیں، اپنے آپریشنز کو بڑھا رہے ہیں اور ضرورت مندوں تک پہنچ رہے ہیں۔

برطانوی ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر صالح سعید نے کہا کہ صورتحال پہلے سے ہی خوفناک سے آگے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔ عوامی عطیات کا استعمال بھوکے خاندانوں کو ہنگامی خوراک اور نقد رقم فراہم کرنے، چھوٹے بچوں اور ماؤں کے لیے نیوٹریشن فراہم کرنے، غذائی قلت کے علاج میں ہیلتھ کیئر کی سہولتوں کی مدد اور خاندانوں کو گرم رہنے میں مدد کے لیے موسم سرما کی کٹس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

برٹش ریڈ کراس کی میرین ہورن نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا اگلا کھانا کہاں سے آئے گا اور اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے سب سے بنیادی مدد مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں لوگ روایتی طور پر لچک دار تھے لیکن اب ’سرنگ کے آخر میں روشنی نہیں کے ساتھ مایوسی کا احساس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ یہ اب چیزوں کو بہتر بنانے کے بارے میں نہیں ہے، یہ زندگیاں بچانے اور بہت دیر ہونے سے پہلے لوگوں تک پہنچنے کے بارے میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں