The news is by your side.

Advertisement

افغانستان دھماکوں سے گونج اٹھا، چار صوبوں میں تئیس فوجی ہلاک

افغانستان میں کسی بھی نئے امن مذاکراتی عمل کے جلد شروع ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں

کابل: افغانستان ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا، ایک ہی دن چار صوبوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے پے در پے حملوں میں کم از کم تئیس فوجی اور پولیس اہل کار مارے گئے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان جنگ جو ہر سال موسم بہار کے آغاز پر اپنی مسلح کارروائیاں تیز کردیتے ہیں۔ ایک روز قبل طالبان نے افغان اور امریکی فوجیوں پر مسلح حملے تیز تر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے شمالی صوبے فریاب میں افغان پولیس اور طالبان کے مخالف مقامی مسلح گروپس کے ارکان پر ہونے والے مہلک حملے میں نو افراد مارے گئے۔

شمالی صوبے قندوز کے ضلع دشتِ ارچی میں طالبان نے افغان نیشنل آرمی کی تین مختلف چیک پوسٹوں پر دھاوا بولا، ان حملوں میں بارہ افغان فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

افغانستان: 2 خودکش دھماکے،31 افرادہلاک،داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

صوبہ بغلان کے دارالحکومت پل خمری کے مضافات میں طالبان حملہ آوروں نے گھات لگا کر سیکورٹی فورسز  پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو سیکورٹی اہل کار مارے گئے۔

افغانستان کے وسطی صوبے پروان میں بھی کئی مقامات پر طالبان نے سیکورٹی فورسز پر حملے کیے، حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں تقریباً پانچ گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے افغانستان میں داعش کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے دیا

طالبان نے اپنی اس نئی عسکری مہم کو ’الخندق‘ کا نام دیا ہے۔ ’الخندق‘ کے اعلان کے صرف چوبیس گھنٹے کے اندر اندر طالبان نے ملک کے کئی صوبوں میں کئی مقامات پر مہلک حملے کیے۔

واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے فروری میں طالبان عسکریت پسندوں کو غیر مشروط امن مذاکرات شروع کرنے کی پیش کش کی تھی تاہم تازہ حملوں کے بعد افغانستان میں کسی بھی نئے امن مذاکراتی عمل کے جلد شروع ہونے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں