The news is by your side.

Advertisement

’’ٹوگو‘‘ کے بارے میں‌ جانیے! (معلوماتی تحریر)

’’جمہوریہ ٹوگو‘‘مغربی افریقا کا ملک ہے جسے 1960ء سے پہلے دنیا ’’ٹوگو لینڈ‘‘ کے نام سے جانتی تھی۔

یہ لگ بھگ بائیس ہزار مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا پڑوسی مشہور افریقی ملک گھانا ہے۔

ٹوگو کی اکثریت دیہات اور دور دراز کے مقامات پر رہتی ہے۔ یہاں آج بھی قدیم قبائلی نظام رائج ہے۔ یہاں کی دفتری اور کاروباری زبان فرانسیسی ہے۔ کیوں کہ یہ علاقہ فرانس کی کالونی رہا ہے۔

ٹوگو 27 اپریل 1960ء کو فرانس کے قبضے سے آزاد ہوا تھا۔ ’’لومے‘‘ یہاں کا سب سے بڑا شہر، دارُالحکومت اور بندر گاہ بھی ہے۔ ’’انیہو‘‘ یہاں کا دوسرابڑا شہر ہے۔ ٹوگو میں تیس بڑے مقامی گروہ یا قبائل ہیں جن میں سے ’’ایوی‘‘،’’مینا‘‘اور’’کابری‘‘ قبائل کے لوگ اکثریت میں ہیں اور زیادہ بااثر اور زور آور ہیں۔ تقریباََ ہر قبیلہ کی اپنی بولی اور رواج ہے۔

ٹوگو کی آبادی 60 لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ براعظم افریقا کے دیگر ممالک انواع و اقسام کی جنگلی حیات کے لیے مشہور ہیں، لیکن اس ملک میں جنگلی حیات بہت کم ہے، اور فقط شمالی علاقوں میں کچھ شیر، چیتے اور ہاتھی دیکھے جاتے ہیں۔

ٹوگو میں جمہوریت قائم ہے، لیکن یہاں ایک عرصہ تک اقتدار پر فوج قابض رہی ہے۔ آئین کے مطابق صدر سربراہِ مملکت ہوتا ہے اور اس کا انتخاب پانچ سال کے لیے کیا جاتا ہے۔ وزیرِاعظم ملک کا انتظامی نگراں ہوتا ہے، لیکن قبائلی سرداروں اور بااثر خاندانوں کے بغیر یہاں کا کاروبارِ حکومت چلانا ممکن نہیں۔

ٹوگو کی سب سے بڑی دولت یہاں پائے جانے والے فاسفیٹ کے ذخائر ہیں۔ کافی، کوکا، کپاس، مکئی اور چاول یہاں کی زرعی پیداوار ہیں۔

ملک بھر میں سات ہوائی اڈے ہیں اور کئی کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ریلوے لائن بھی ہے۔ افریقا میں اسلام کی روشنی پھیلی تو اس سرزمین پر بھی اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ تاہم آج یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں جب کہ ’’کوٹو کولی‘‘ قبیلہ سب سے بڑے مسلمان گروہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہاں غربت اور بدحالی کا راج ہے اور لوگ صحّت و تعلیم سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ بے روزگاری اور ناخواندگی کے علاوہ لوگ رہائش، رہن سہن اور غذا و خوراک کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہاں قبائلی رسم و رواج، خوشی و غم کی مناسبت سے قدیم روایتی طور طریقے اور ناچ گانے سمیت کھیل کود کی مقامی شکلیں‌ دیکھنے کو ملتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں