The news is by your side.

Advertisement

7 ماہ قبل ایکسپائر ہونے والے خروج وعودہ کی توسیع؟

ریاض: سعودی محکمہ جوازات سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا 7 ماہ قبل ایکسپائر ہونے والے خروج وعودہ کی توسیع ہو سکتی ہے؟

جوازات کے ٹوئٹر پر مذکورہ شخص نے دریافت کیا کہ ’سائق خاص (فیملی ڈرائیور) جو کہ خروج وعودہ پر گیا تھا، کرونا کی وجہ سے واپس نہ آ سکا، خروج وعودہ ایکسپائر ہوئے 7 ماہ ہوگئے کیا ایگزٹ ری انٹری میں توسیع ہو سکتی ہے؟‘

جوازات نے جواب دیا کہ وہ تارکین جو خروج وعودہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں، قانون کے مطابق جوازات کا خود کار سسٹم انھیں 6 ماہ بعد خرج ولم یعد کی کٹیگری میں شامل کر دیتا ہے۔

خرج ولم یعد کی کیٹگری میں ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو خروج وعودہ پر جا کر چھ ماہ تک واپس نہیں لوٹتے، ایسے افراد جنھیں مذکورہ کیٹگری میں شامل کر دیا گیا ہو، ان پر خلاف ورزی کا اطلاق ہوتا ہے۔

تاہم، خرج ولم یعد کی کیٹگری میں شامل کیے گئے افراد کے اسپانسر اگر چاہیں تو وہ پابندی والے عرصے کے دوران ان کے لیے دوسرا ویزہ جاری کرا سکتے ہیں۔

خیال رہے گزشتہ دو برسوں کے دوران کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر سعودی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مملکت کے ان اقامہ ہولڈرز کے لیے خصوصی رعایت دی گئی تھی جو وبا کی وجہ سے مملکت نہیں آ سکے تھے، ایسے افراد کے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں خود کار طریقے سے توسیع کر دی گئی تھی۔

یہ بات ضرور مد نظر رہے کہ سعودی محکمہ جوازات کے قانون کے تحت وہ افراد جو خروج وعودہ پر جاتے ہیں اور مقررہ وقت پر واپس نہیں آتے انھیں خروج وعودہ قانون کی خلاف ورزی پر 3 برس کے لیے مملکت میں بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں