The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی کے بعد سعودی ولی عہد ایک اور الزام کی زد میں آگئے

ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پر دنیا کے امیر ترین شخص کے موبائل فون ہیک کرنے کا الزام عائد کردیا گیا، جبکہ ریاض حکومت نے الزام کی تردید کردی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے ایمازون کے سربراہ جیف بیزوس کو واٹس ایپ پر ایک ویڈیو بھیجنے کے بعد جیف بیزوس کا موبائل فون ہیک ہوگیا تھا، یہ واقعہ یکم مئی 2018 کو پیش آیا۔

برطانیہ کے آل لائن جریدے دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد کی جانب سے ایک خطرناک ویڈیو ٹیکسٹ میسج بھیجا گیا اور جب جیف بیزوس نے واٹس ایپ میسج کھولا تو ان کا فون ہیک ہوگیا، شہزادہ سلمان اور جیف بیزوس کے درمیان واٹس ایپ پر ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے رابطہ رہتا تھا۔

غیرملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو میسج کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی جیف بیزوس کے موبائل سے بہت بڑی تعداد میں ڈیٹا چرا گیا، تاہم ڈیٹا کس طرح کے تھے اور ویڈیو کس حوالے سے تھی اب تک واضح نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب سعودی عرب نے الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے افواہ قرار دیا۔ امریکا میں سعودی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فون ہیک کرنے کی خبریں ’نامعقول‘ ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ محمد بن سلمان ہیکنگ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں