The news is by your side.

43 سال جیل میں رہنے والا شہری بے گناہ قرار

واشنگٹن : قتل کے جھوٹے الزامات میں تقریباً نصف صدی جیل میں گزارنے والے امریکی شہری کو باالاخر رہائی نصیب ہوگئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیون اسٹرکلینڈ نامی ایک شخص کو امریکی عدالت نے 43 سال قبل تین قتل کرنے کے الزام میں 50 سال قید کی سزا سنائی جس پر کیون نے اصرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس نے کوئی قتل نہیں کیا’ لیکن عدالت نے کیون کی بات ماننے سے انکار کردیا۔

اب 43 سال بعد عدالت کو تسلیم کرنا پڑا کہ کیون اسٹرکلینڈ بے قصور تھے اور ایک ایسے جرم کی سزا سنا دی گئی جو انہوں نے انجام ہی نہیں دیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 23 نومبر کو کیون اسٹرکلینڈ کو ویسٹرن مسوری کریکشنل سینٹر نامی جیل سے رہا کیا گیا تو وہ وہیل چیئر پر سوار تھا۔

امریکا کے نیشنل رجسٹری آف ایکسژورینیشن کے مطابق یہ امریکی ریاست مسوری میں غلط فرد کو دی جانے والی طویل ترین سزا ہے اور امریکی تاریخ کی بھی طویل ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔

کیون نے کہا ‘اب بھی مجھے یقین نہیں آرہا، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دن میری زندگی میں آئے گا’۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیون کو 1978 میں فائرنگ کرکے تین افراد کو قتل کرنے کے الزام میں ایک خاتون کی گواہی پر سزا سنائی گئی تھی جو فائرنگ کے فائرنگ میں زخمی ہوئی تھیں۔

بعدازاں خاتون نے تیس برس اصرار کیا کہ ان سے کیون پر کو شناخت کرنے میں غلطی ہوئی اور انہوں نے کیون کی رہائی کےلیے کوششیں بھی کیں۔

حیران کن طور پر خاتون نے جن مزید 2 قاتلوں کو شناخت کیا انہیں 10، 10 سال قید کی سزا ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں