The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی نئی قسم کے بعد نیا چیلنج کھڑا ہوگیا

لندن: برطانیہ میں دریافت ہونے والی کوروناوائرس کی نئی قسم میں مزید جینیاتی تبدیلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں کوروناوائرس نئی قسم مزید میوٹیشن کے عمل سے گزر رہی ہے جو پریشان کن معاملہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائرس کی نئی قسم میں ‘میوٹیشن ای 484’ کا عمل میں ہورہا ہے، جینیات کی یہ تبدیلی اس سے قبل جنوبی افریقا اور برازیل میں ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید جینیاتی تبدیلیاں ویکسین اور علاج کے طریقہ کار پر اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ماہرین نے وائرس کی برطانوی قسم کے چند کیسز میں اس نئی میوٹیشن کو دریافت کیا، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایسی صورت حال تمام مریضوں میں پائی جاتی ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ای 484 کے میوٹیشن سے وائرس کو مدافعتی نظام کے اینٹی باڈیز حصوں پر حملہ آور ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود موجودہ ویکسین کی افادیت برقرار رہے گی۔

کیا کرونا وائرس کی نئی قسم ویکسینز کو بیکار کرسکتی ہے؟

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وائرس کی میوٹیشنز کا ایک مخصوص روٹ ہے اور ہم اس کو ویکسین کے ذریعے بلاک کرنے پر کام کرسکتے ہیں۔

حالیہ دنوں سائنس دانوں نے کہا تھا کہ کوروناوائرس کی نئی قسم سے لڑنے کے لیے موجودہ ویکسینز کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پڑے گی کیوں کہ تغیرپذیر کورونا میں سخت مزاحمت دیکھا گیا ہے۔

جنوبی افریقا کے طبی ماہرین نے تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملک میں پائی جانے والی کورونا کی قسم موجودہ ویکسین کے خلاف سخت مزاحمت دے سکتی ہے جس کے لیے ویکسینز کو ری ڈیزائن کرنا ہوگا۔ اس ریسرچ میں مریضوں کے بلڈ پلازما اور وائرس کی میوٹیشنز کے میلاپ کا مشاہدہ کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں