The news is by your side.

ایک ہزار روپیہ

’’حضرت احسان دانش کون تھے؟ کیا تھے؟ نئی نسل کو یہ بتانے، جتانے کے لیے ’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو‘ کہنا پڑ رہا ہے۔ احسان دانش شاعر تھے، ادیب تھے، محقق تھے، نقاد تھے، لُغت نویس تھے، ماہرِ لسانیات تھے، صاحبِ فن تھے۔ وہ استادوں کے استاد تھے۔

یہ سطور ناصر زیدی کے سوانحی کالم سے لی گئی ہیں، وہ مزید لکھتے ہیں، ’’احسان دانشؔ ادب کی دنیا میں، اس مقام بلند پر پہنچے جس کی ہر شاعر حسرت، تمنّا ، خواہش ہی کرسکتا ہے۔‘‘

احسان دانش برصغیر پاک و ہند کے مایۂ ناز، کہنہ مشق، پُر گو، صاحبِ فن شاعر تھے، اس عظیم مرتبے اور آفاقی شہرت کے حامل شاعر کو بے پناہ مقبولیت اور پذیرائی بیٹھے بٹھائے حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے لیے انہوں نے بڑی جدوجہد کی، بڑے پاپڑ بیلے، اس مقامِ عظمت تک پہنچنے کی مختصر روداد انہوں نے یوں بیان کی:

’’میں تو صرف محبت کا بندہ ہوں اور خلوص کو انسانیت کا زیور گردانتا ہوں، یہی میری کام یابی کا راز ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں کام یاب ہوں بھی یا نہیں یہ فیصلہ بہرحال قارئین کے کرنے کا ہے۔ بحمدِاللہ نہ تو مَیں کہیں ملازم ہوں نہ مجھے کوئی سرکاری وظیفہ ملتا ہے۔ نہ کوئی خطاب، نہ سند اور نہ کوئی ایسی جائیداد جو میرے کنبے کی کفالت کر سکے، لیکن وہ ذاتِ پاک جو ہر شے کو اس کی مختلف حالتوں میں ضرورتوں کے مطابق نشوونما دے کر اسے اپنے حدِ کمال تک پہنچاتی ہے، وہی میری نگہبان ہے۔ میرا قلم میری کفالت کررہا ہے۔ ہر چند کہ مَیں افلاس کے اونچے نیچے ٹیلوں میں بھٹک رہا ہوں لیکن مایوسی کا سایہ تک مجھ پر نہیں پڑتا شاید اس لیے کہ میں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنی صداقت کو داغ دار نہیں کیا اور میری پوری زندگی قرض کی ندامت سے پاک ہے۔ حافظے میں فاقوں کے بے شمار نشان دھندلی دھندلی صورت میں موجود ہیں جو مجھ سے شکر گزاری کا تقاضا کرتے ہیں۔‘‘

احسان دانش کی اسی بے لوث محبّت، ان کے اخلاص اور درد مندی کو اردو کے ممتاز ادیب اور شاعر احمد ندیم قاسمی نے بھی رقم کیا ہے جو ناصر زیدی کی پیشِ نظر تحریر کو تقویت بخشتا ہے۔ قاسمی صاحب لکھتے ہیں:

’’یہ 1949ء کا ذکر ہے جب میرے ایک عم زاد محمد حیات، دق کے مرض میں مبتلا ہو کر لاہور تشریف لائے۔ نہایت پیارے اور خوب صورت انسان تھے۔ میں نے جی بھر کر ان کی خدمت کی مگر آخر وہ جاں بَر نہ ہو سکے اور میری ہی قیام گاہ (نسبت روڈ) پر ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘

’’میں جب ان کی میّت کو اپنے گاؤں انگہ (ضلع خوشاب) میں دفنا کر لاہور واپس آیا تو ایک ڈاکٹر نے میری چھاتی کی اسکریننگ کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے پھیپھڑوں پر ایک دو داغ سے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ شاید دِق کے ایک مریض کے ساتھ شب و روز گزارنے کا نتیجہ ہے۔ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ تم فوراً مری یا ایبٹ آباد یا کوئٹہ چلے جاؤ، وہاں دو تین ماہ کے قیام کے بعد یہ داغ مٹ جائیں گے۔ بہ صورتِ دیگر یہ داغ دِق میں بھی بدل سکتے ہیں۔‘‘

’’میں اُن دنوں بالکل بیکار تھا۔ اپنے افسانوں کا ایک مجموعہ مکتبۂ اُردو کے مالک کے حوالے کر رکھا تھا اور اس کی طرف سے معاوضے کا منتظر تھا ورنہ میرے لیے کسی صحت افزا مقام کا رُخ کرنا مشکل تھا۔‘‘

’’نجانے میری اس دشواری کی اطلاع احسان صاحب تک کیسے پہنچی۔ ایک صبح کو میرے گھر کی گھنٹی بجی۔ کھڑکی میں سے جھانکا تو گلی میں حضرت احسان دانش کھڑے نظر آئے۔ میں نے جلدی سے دروازہ کھولا اور احسان صاحب سے اندر آنے کو کہا مگر انہوں نے فرمایا، ’نہیں ندیم! یہیں گلی میں میری بات سن لو۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نے تمہیں مری یا کوئٹہ جانے کا مشورہ دیا ہے مگر تمہاری جیب خالی ہے۔ میرے پاس اس وقت ایک ہزار روپیہ ہے۔ یہ لو اور فوراً کسی صحّت افزا مقام پر چلے جاؤ اور یاد رکھو، تمہارا وجود نہایت قیمتی ہے۔‘…..“

’’میں احسان صاحب کی اس پیش کش پر حیران رہ گیا۔ میں ان کا عقیدت مند ضرور تھا مگر ہمارے درمیان ابھی محبت کا وہ رشتہ قائم نہیں ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک غریب شاعر اس والہیت سے دوسرے غریب شاعر کی مدد کو پہنچتا۔ میں نے احسان صاحب کو بتایا کہ مکتبۂ اردو میرے افسانوں کا مجموعہ شائع کر رہا ہے اور آج کل میں مجھے اس مجموعے کا معاوضہ ملنے والا ہے۔ اگر نہ ملا تو میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے یہ ایک ہزار روپیہ وصول کر لوں گا۔ تب احسان صاحب نے فرمایا، ”دیکھو ندیم! اگر تمہیں اپنی کتاب کا معاوضہ ملتا ہے تو ٹھیک ہے۔ میں پرسوں تک انتظار کروں گا۔ اس کے بعد تمہیں یہ رقم لینا ہی ہو گی۔“ میں نے احسان صاحب کی تائید کی۔‘‘

’’دوسرے روز مجھے معاوضہ مل گیا تو میں احسان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں معاوضے کی رقم دکھائی تو ان کی تسلّی ہوئی اور مجھے سینے سے لگا کر اور میرے ماتھے کو چوم کر مجھے رخصت کیا۔ میں اس محبت کے نشے میں چُور یہ سوچتا ہوا واپس آیا کہ احسان نے بے لوث پیار کی کتنی بلیغ مثال قائم کر دی ہے!‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں