The news is by your side.

Advertisement

احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ، فائرنگ کرنے والے ملزم کی تصاویر سامنے آگئیں

نارووال: وزیر داخلہ پر گولی چلانے والے ملزم عابد حسین نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ختم نبوت کے معاملے پر احسن اقبال پر گولی چلائی۔

تفصیلات کے مطابق نارووال میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم عابد حسین نے اپنا اعترافی بیان پولیس کو دے دیا ہے۔

ملزم کا ابتدائی بیان میں کہنا تھا کہ میں نے ختم نبوت کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی، قاتلانہ حملے کا فیصلہ میرا ذاتی تھا، ذرائع کے مطابق پولیس نے ملزم کا ابتدائی بیان وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوادیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ احسن اقبال نے ختم نبوت کے حوالے سے جو بیانات دئیے تھے اس پر رنج تھا اس وجہ سے احسن اقبال پر حملے کے لیے موقع کی تلاش میں تھا ،آج جب احسن اقبال کرسچن کمیونٹی کی تقریب میں آئے تو موقع پا کر حملہ کردیا۔

ملزم نے اعترافی بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ احسن اقبال پر حملہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا، کچھ روز پہلے ہی کسی سے اسلحہ لیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم دھوکہ دینے کیلئے ن لیگ کے حق میں نعرے لگاتا رہا اور پھر اچانک حملہ کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عابد حسین نے پہلے بھی احسن اقبال کی ریکی کی کوشش کی، ملزم روزگار کے سلسلے میں دبئی بھی جا چکا ہے۔

حملہ آور عابد حسین کی عمر21 سال اور اس کا تعلق اسی گاؤں کنجروڑ سے ہے جہاں وزیر داخلہ کارنر میٹنگ میں شریک تھے، ملزم کے والد کا نام منظور گجر ہے، ملزم کا تعلق ایک مذہبی تنظیم سے بتایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: نارووال، وزیر داخلہ احسن اقبال قاتلانہ حملے میں زخمی ، اسپتال منتقل، ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم عابد جلسہ گاہ میں موجود تھا اور خطاب کے وقت فرنٹ لائن میں بیٹھا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عابد سفید رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔

ملزم کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق ملزم عابد حسین کے والد کا نام محمد حسین اور تاریخ پیدائش 13 مئی 1995 ہے جبکہ وہ دبئی بھی جاچکا ہے ، حملہ آور تحصیل شکر گڑھ کے علاقے ویرم کا رہائشی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں