site
stats
پاکستان

پاکستان آئندہ دو برسوں میں خلاء میں سیٹلائٹ مشن بھیجے گا، ایئر مارشل سہیل امان

اسلام آباد : سربراہ پاک فضائیہ ایئر مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ دو برسوں میں خلائی مشن بھیجے گا جس کے لیے پاکستان اپنے دوست چین کے تعاون سے نیکسٹ جنریشن طیارہ سازی میں مشغول ہے.

اس بات کا علان انہوں نے ایئر یونیورسٹی کے زیراہتمام ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اپنی نوعیت کے منفرد چار روزہ ٹیکنالوجی مقابلوں کے موقع پر ایئرٹیک کانفرنس سے بہ طور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا، ایئرچیف کا کہنا تھا کہ حصول تعلیم کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا احسن استعمال اور سماجی فلاح و بہبود ہونا چاہیے.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے آگاہ کیا کہ پاکستان دوست ملک چین کے تعاون سے کامیابی سے نیکسٹ جنریشن طیارہ سازی میں مصروف ہے اور عنقریب چین کے اشتراک سے پاکستان اپنا سٹلائیٹ مشن بھیجنے کے بھی قابل ہوجائے گا.

پاکستان ایئر فورس کی دفاع وطن میں اعلیٰ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں چنانچہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر 16 سے 20 جے ایف سترہ طیارے بنارہا ہے جو ایف سولہ جہازوں سے کارکردگی میں کہیں زیادہ بہتر ہیں.

ایئر چیف مارشل سہیل امان نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے مابین قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ پاکستانی طلباء طالبات دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں لیکن اہدافِ زندگی کو کامیابی سے حاصل کرنے کیلئے یقین محکم، مقصد سے لگاوٌ اور انتھک جدوجہد ضروری ہے.

انہوں نے کہا کہ ہر ایک رول ماڈل لیڈر کو کڑے وقت میں کٹھن فیصلے کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے اور انسان مساوات کے طور پرعزت و احترام کا مستحق ہے اگر ہم اپنی زندگیوں میں مثبت اقدار کو پروان نہیں چڑھاتے تو ہماری کامیابی کسی کام کی نہیں ہوتی.

اس موقع پر وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر وائس مارشل (ر) فائز امیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایئریونیورسٹی کے زیراہتمام ایئرٹیک ملک بھر کے انجینئرنگ کے طالب علموں کوجدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے معلومات کے تبادلے اور آئیڈیاز کے تبادلے کا موثر پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے.

خیال رہے کہ چار روزہ ٹیکنالوجی مقابلوں کا مقصد ملک بھر کے قابل طلباء وطالبات کی تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے اور اس ایئرٹیک کانفرنس میں شرکت کیلئے طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین کی کثیر تعداد موجود تھی.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top