سینیٹ میں کلائمٹ چینج بل 2017 منظور -
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ میں کلائمٹ چینج بل 2017 منظور

اسلام آباد: ایوان بالا (سینیٹ) نے پاکستانی موسمیاتی تبدیلی بل 2017 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ سینیٹ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فضائی آلودگی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کروا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں پاکستانی موسمیاتی تبدیلی بل 2017 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا کہ بل کی دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظوری پر سب کا شکر گزار ہوں۔ یہ تاریخی بل ہے اور اس سے ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بل کے تحت کلائمٹ چینج اتھارٹی بھی بنائی جائے گی جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے والے منصوبوں پر کام کرے گی۔ بل کو تمام صوبوں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بل کی منظوری پر وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کو مبارک باد پیش کی۔

زاہد حامد نے بتایا کہ پاکستان نے پیرس کلائمٹ ڈیل کی توثیق کی ہے، اب اس کے لیے 100 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں فضائی آلودگی

سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمٰن نے فضائی آلودگی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس جمع بھی کروایا۔

نوٹس میں کہا گیا کہ اسٹیل ملز، ٹائر، کوئلے اور ربر کی فیکٹریاں ماحول کو آلودہ کر رہی ہیں۔ نوٹس کے مطابق 5 ماہ پہلے سیل کی گئی اسٹیل مل بغیر کلیئرنس کے دوبارہ کام کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی دماغی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث

شیری رحمٰن کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) زاہد حامد نے جواب دیا کہ ماحول میں آلودگی کا سبب بننے والی 3 ملیں بند کردی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی آلودگی پر آرڈر برائے تحفظ ماحولیات موجود ہے۔

وفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں تحفظ ماحولیات ایجنسی نے آن لائن مانیٹرنگ سسٹم بھی بنایا ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال 50 لاکھ سے زائد افراد کی موت کی وجہ بن رہی ہے۔ صرف چین میں ہر روز 4 ہزار (لگ بھگ 155 لاکھ سالانہ) افراد بدترین فضائی آلودگی کے سبب موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی سے متاثر ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے اور موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد لگ بھگ 1 لاکھ سالانہ ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کا کہنا ہے کہ دنیا کا ہر 7 میں سے ایک بچہ بدترین فضائی آلودگی اور اس کے خطرات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق فضا میں موجود آلودگی کے ذرات بچوں کے زیر نشونما اندرونی جسمانی اعضا کو متاثر کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی نہ صرف طبی مسائل کا باعث بنتی ہے، بلکہ یہ کسی ملک کی معیشت کے لیے بڑے خسارے کا سبب بھی بنتی ہے۔ سنہ 20133 میں فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف ممالک کی معیشتوں کو مجموعی طور پر 225 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں