ہفتہ, مئی 18, 2024
اشتہار

ایک چالاک اور مشّاق جیب کترے کا قصّہ

اشتہار

حیرت انگیز

آخری مغل دور میں‌ انتظامی اداروں کی کم زوری اور امن و امان کی خراب صورتِ حال کے ساتھ جہاں ہندوستانی سماج میں انتشار اور ابتری بڑھی، وہیں عوام کو غربت اور بدحالی کا سامنا بھی تھا۔

ان حالات میں ایک طرف لوٹ مار، چوری چکاری کے عام واقعات میں اضافہ ہوا، اور دوسری طرف بازاروں، عبادت گاہوں اور مختلف پُرہجوم مقامات پر لوگوں کی جیبیں‌ بھی خالی ہونے لگی تھیں۔ انگریزوں نے جب مکمل طور پر شہروں کا انتظام سنبھالا تو اس وقت کئی جیب کترے بھی دہلی اور گرد و نواح میں سرگرم تھے۔ ان میں بعض نہایت چالاک، تیز طرّار اور جرم کی دنیا میں ‘کاری گر’ مشہور ہوئے۔ مسلسل مشق نے انھیں گویا ‘ہنرمند’ بنا دیا تھا۔

یہاں ہم وہ دل چسپ واقعہ نقل کررہے ہیں جس سے اس دور کے ایک جیب کترے کی ذہانت، چالاکی اور اس کی مشّاقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

- Advertisement -

"دہلی میں ایک جیب کترے تھے جن کا انگوٹھا قینچی کے پھل کی طرح دو دھارا تھا اور کلمے کی انگلی پتھر پر گھس گھس کر شیشے کی مانند سخت کر لی تھی۔ بس جہاں ان کی انگلی لگ جاتی تو قینچی کو پیچھے چھوڑ دیتی تھی۔”

"ایک صاحب کوئی باہر کے، خواجہ حسن نظامی کے ہاں آئے اور شکایت کی۔ ’’دہلی کے جیب کترے کی بڑی دھوم سنی تھی۔ آج ہمیں دہلی کے بازاروں میں پھرتے چار دن ہو گئے ہیں لیکن کسی کو مجال نہیں ہوئی کہ ہماری جیب کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے۔‘‘….”

"خواجہ صاحب نے اس چٹکی باز کو بلوایا اور ان صاحب سے اس چٹکی باز کا آمنا سامنا کرایا۔ اس ہنرمند نے مسکرا کر کہا۔”

’’خواجہ صاحب! میرے شاگردوں نے ان صاحب کا حلیہ بتایا تھا۔ چار دن سے انگرکھے کی اندر کی جیب میں پیتل کی آٹھ ماشیاں (آٹھ ماشا وزن کے سکّے) ڈالے گھوم رہے ہیں اور وہ بھی گنتی کے چار۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کون جعلی سکّوں پر اپنی نیّت خراب کرے گا۔‘‘

یہ قصّہ اردو کے ممتاز ادیب، خاکہ نگار اور براڈ کاسٹر اخلاق احمد دہلوی کی مشہور تصنیف ’’پھر وہی بیان اپنا‘‘ میں مندرج ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں