العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب پر ایک مرتبہ پھر استثنیٰ مانگ لیا -
The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب پر ایک مرتبہ پھر استثنیٰ مانگ لیا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 45 سوالوں کے جوابات پر مبنی اپنا بیان قلمبند کروا دیا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروایا۔

دریں اثنا نواز شریف نے قومی اسمبلی میں کیے گئے خطاب پر ایک مرتبہ پھر استثنیٰ مانگ لیا۔ سماعت کے موقع پر مسلم لیگ ن کے کئی رہنما نواز شریف کے ساتھ روسٹرم کے قریب موجود رہے۔

بیان سے قبل نواز شریف کے وکیل زبیر خالد نے چند سوالوں میں درستی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تین تین سوالوں کو ملا کر ایک سوال بنایا گیا ہے، جس پر جج نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں، ایک ایک کرتے تو 200 سوال بن جاتے۔

نواز شریف نے 342 کے تحت بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر خزانہ اور اپوزیشن لیڈر رہا۔ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لا لگایا، مارشل لا کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ عوامی عہدوں پر رہنے کے باعث شریف خاندان کے سب سے با اثر شخص تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ تفتیش کی رائے تھی کہ میں شریف خاندان کا سب سے بااثر شخص تھا، والد بھی آخری سانس تک ہمارے خاندان کے سب سے بااثر شخص تھے۔

انہوں نے کہا کہ درست ہے عدالت میں پیش دستاویزات میں نے ہی جمع کروائے تھے، ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن جمع کروائے تھے۔ سنہ 2001سے 2008 تک میں جلا وطن تھا۔ ’حسین نواز کے جمع ٹیکس سے متعلق جواب دینے کا میں مجاز نہیں‘۔

بیان کے دوران معاون وکیل نے استدعا کی کہ میاں صاحب بیٹھ جائیں ہم جواب تحریر کروا دیتے ہیں، جج نے نواز شریف سے کہا کہ اپنے جواب کی کاپی مجھے دیں میں پڑھ لیتا ہوں۔ کاپی لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس جواب میں کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو میں پوچھ لوں گا۔

آج کی سماعت میں نواز شریف نے دیے گئے 50 سوالات میں سے 45 کے جوابات قلمبند کروادیے۔ انہوں نے استدعا کی کہ مزید جوابات خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوں گا، کچھ سوالات پیچیدہ ہیں، ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔

بعد ازاں عدالت پہنچ کر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کے جوابات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جوابات میں تبدیلی کی کوشش کی تو جج نے کہا کہ تبدیلی نہ کروائیں جو ملزم نےلکھ دیا بس وہ درست ہے، ’آپ درستگی کریں گے تو پھر یہ آپ کا بیان ثابت ہوگا‘۔

خواجہ حارث نے سوال نمبر 16 پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک سوال میں 2 سوالات کیے ہیں، اگلے 4 سوالوں میں بھی وہی بات دہرائی گئی ہے۔ ہل میٹل اکاؤنٹ میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کے بارے میں پوچھا گیا۔

انہوں نے استدعا کی کہ اس کو ایک ہی سوال کرلیا جائے، جج نے کہا کہ گواہوں کے نام لکھ لیتے ہیں جن کے اکاؤنٹس سے ڈیبٹ اور کریڈٹ ہوئی ہے۔

نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے سوال پر ایک مرتبہ پھر استثنیٰ مانگتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کسی عدالت کے سامنے نہیں پیش کی جاسکتی، آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت قومی اسمبلی میں کی گئی تقریرکو استثنیٰ حاصل ہے، میں نے جو قومی اسمبلی میں تقریر کی وہ کچھ دستاویزات کی بنیاد پر کی۔

نواز شریف نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی نہیں کہا کہ گلف اسٹیل مل، العزیزیہ یا دبئی فیکٹری کا مالک ہوں، میرا گلف اسٹیل ملزکے کیے گئے معاہدوں سے کوئی تعلق نہیں رہا، العزیزیہ اسٹیل مل میرے والد مرحوم نے قائم کی تھی، میرا کسی حیثیت میں بھی خاندانی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ قوم سے خطاب میں کبھی نہیں کہا کہ العزیزیہ اسٹیل کی فروخت سےمیراتعلق ہے، میرا بیان ذاتی معلومات پر مشتمل نہیں تھا۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے مزید 101 سوالات نواز شریف کے وکیل کو فراہم کردیے۔ احتساب عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔ کل بھی نواز شریف کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں