العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پرجرح کی۔

خواجہ حارث نے سماعت کے دوران سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے آڈٹ بیورو کے کسی حکام سے رابطے کی کوشش کی؟ جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ آلڈرآڈٹ رپورٹ ان اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر ہے جن کا آڈٹ بیورونے نہیں کیا۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ حسین نواز سے متعلق آڈٹ رپورٹ مالی سال 2010 سے 2014 تک کی ہے، جس شخص نے رپورٹ تیارکی اس کا نام اوردیگرتفصیل رپورٹ میں درج ہے۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کب آپریشنل ہوئی جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ ریکارڈ دیکھ کرجواب دے سکتا ہوں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جواب دینے کے لیے سی ایم اے اورحسین نوازکا بیان دیکھنا پڑے گا۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں متفرق درخواست جمع کرائی گئی تھی جس کے مطابق اایچ ایم ای 2006 کے آغازمیں قائم ہوئی۔

نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق ایچ ایم ای کب قائم ہوئی؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے اس حوالے سے ایم ایل اے لکھا تھا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ الدار آڈٹ رپورٹ ایچ ایم ای کے 15-2010 کے اکاؤنٹس پرمبنی ہے، ایچ ایم ای کے آڈیٹڈ اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگنا ضروری نہیں سمجھا۔

واجد ضیاء نے کہا کہ سعودی حکام کو31 مئی 2017 کوصرف ایک ایم ایل اے لکھا گیا جس کا جواب نہیں ملا۔

خواجہ حارث اورپراسیکیوٹر نیب کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

عدالت میں سماعت کے دوران خواجہ حارث نے کہا کہ جرح کر رہا ہوں دونوں پراسیکیوٹرز آپس میں بات نہ کریں، آپ دوران جرح بات مت کریں، اس سے میں ڈسٹرب ہوتا ہوں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مجھے عدالت کہے تومیں نہیں پوچھوں گا، آپ ڈکٹیٹ نہ کریں، عدالت نے نیب پراسکیوٹر کو دوران جرح بات نہ کرنے کی ہدایت کردی۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ علم میں ہے کمپنیز آرڈیننس 1984 کو 2017 کمپنیز ایکٹ نے تبدیل کیا؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ نہیں میرے علم میں نہیں ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ علم میں ہے پارٹنر شپ ایکٹ 1969 چل رہا ہے؟ جس پرجے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ جی یہ میں جانتا ہوں۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ پتہ ہے کمپنیز ایکٹ کمپنی کواورپارٹنر شپ ایکٹ پارٹنرشپ کوڈیل کرتا ہے؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ میں ایکسپرٹ نہیں ہوں۔

پراسیکیوٹر نیب نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹنرشپ ایکٹ 1969 نہیں 1932 ہے ٹھیک کرلیں جس پر نوازشریف کے وکیل آپے سے باہر ہوگئے اور اپنے معاون وکیل کو جھاڑ پلا دی۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ وہ آپ کو پاگل بنا رہے ہیں اور آپ پاگل بن رہے ہیں۔

بعد ازاں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی، خواجہ حارث کل بھی واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے۔

نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

احتساب عدالت میں گزشتہ سماعت پر سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے اعتراض ریکارڈ کرائے تھے۔

عدالت میں سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی تھی۔

نوازشریف کےخلاف ریفرنسزکی سماعت 6 ہفتوں میں مکمل کرنےکا حکم

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزاورفلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید 6 ہفتے کی مہلت دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں