نا اہل نوا زشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ریفرنس کی سماعت شروع -
The news is by your side.

Advertisement

نا اہل نوا زشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ریفرنس کی سماعت شروع

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت شروع کردی ہے‘ ریفرنس نیب کی جانب سے سپریم کورٹ کے 28 جولائی والے فیصلے کی روشنی میں دائر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج احتساب عدالت میں مقدمے کی سماعت جج محمد بشیر کررہے ہیں ‘ سماعت میں میں نیب کے گواہ طیب احمد سابق وزیراعظم نوا زشریف کے خلاف اپنا بیان جمع کرائیں گے۔

نواز شریف کے وکیل ایڈوکیٹ خواجہ حارث بیان کے بعد نیب کے گواہ سے جرح کریں گے۔ یاد رہے کہ طیب احمد ایک نجی بینک کے ملازم ہیں ‘ انہوں نے گزشتہ سماعت میں جج کے روبرو بیان میں کہا تھا کہ مریم نواز جون 2015 میں ایک کروڑ بیس لاکھ کا چیک‘ نومبر 2015 میں دو کروڑ 88 لاکھ کا چیک اور اگست 2016 میں 1 کروڑ 95 لاکھ کا چیک دیا گیا۔

یاد رہے کہ نا اہل قراردئیے گئے سابق وزیراعظم ان دنوں وطن میں موجود نہیں ہیں اس لیے ان کی غیر موجودگی میں مریم نواز اپنے وکلا ظافر خان ترین اور جہانگیر جدون کے ہمرا ہ عدالت میں پیش ہوں گی۔

کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی روز عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

بعد ازاں عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث اس سے اگلے روز 20 اکتوبر کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی نامزد ملزم نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

تاہم نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستیں مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تھا۔

نیب میں سماعت کے موقع پر نواز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے تک یہ کیس مزید نہیں چل سکتا، ہائیکورٹ نے 2 درخواستیں دوبارہ سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔

نواز شریف نے تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی ایک اور درخواست احتساب عدالت میں بھی دائر کی تھی جسے 8 نومبر کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف پر ایک بار پھر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔

نواز شریف پر فرد جرم لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں دوبارہ عائد کی گئی۔ دوسری جانب مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی فرد جرم میں ترمیم کرتے ہوئے کیلبری فونٹ سے متعلق سیکشن 3 اے فرد جرم سے بھی نکال دی گئی تھی۔

اس کے چند روز بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کا 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا 8 نومبر کا فیصلہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس کے بعد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس جاری کردیے تھے جبکہ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

نیب عدالت میں 15 نومبر کو ہونے والی سماعت میں شریف خاندان کا فرد جرم عائد ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا تھا۔

سماعت میں استغاثہ کے 2 گواہوں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی اہلکار سدرہ منصور اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں گواہ جہانگیر احمد نے بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

اسی سماعت پر نواز شریف نے عدالت سے حاضری کی ایک ہفتے کی جبکہ جبکہ مریم نواز نے ایک ماہ کی استثنیٰ کی درخواست کی تھی جسے منظور کرلیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں