نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل دن ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت لایا گیا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیا پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ جے آئی ٹی کے پاس دستاویز ہیں جن میں ہل میٹل کو کمپنی ظاہر کیا گیا ؟ واجد ضیا نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتا سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سورس دستاویزات موجود ہیں، ظاہر ہوتا ہے کہ ہل میٹل کمپنی ہے۔ سورس دستاویزات 20 جون 2017 کو جے آئی ٹی کو ملیں۔ سورس دستاویز ایم ایل اے لکھے جانے کے بعد 20 جون کو موصول ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 05-2004 کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے ان کارپوریشن کا سال لکھا گیا، ایم ایل اے لکھے جانے کے وقت کسی گواہ نے ان کارپوریشن کا سال نہیں بتایا۔

جوڈیشل کمپلیکس کی حالت زار پر جج ارشد ملک دوران سماعت بول اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جوڈیشل کمپلیکس کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں، عمارت باقاعدہ طور پر ٹھیکے دار کی طرف سے حوالے نہیں ہوئی۔ خط لکھ کر معاملے پر توجہ دلائی گئی لیکن کوئی پیشرفت نہیں۔

دوران سماعت کمرہ عدالت میں چیونگم چبانے پر جج محمد ارشد ملک نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جس نے منہ ہلانا ہے وہ باہر چلا جائے، کمرہ عدالت میں مسلسل منہ چلانا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال کریں یہ کوئی میلہ نہیں۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید بھی چیونگم چبا رہے تھے، جج کے ریمارکس کے بعد مشاہد حسین سید نے چیونگم چبانا بند کردی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹ میں نواز شریف کے خلاف کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے خواجہ حارث کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرلی۔

نواز شریف کو عدالت سے جانے کی اجازت دے دی گئی جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل روانہ کر دیا گیا۔ العزیزیہ ریفرنس کی مزید سماعت کل دن ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ سماعت پر واجد ضیا نے کہا تھا کہ ماڈرن انڈسٹری سے متعلق ایم ایل اے سعودی عرب نہیں بھیجا، جب سعودی عرب کو خط لکھا اس وقت کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ ایم ایل اے صرف ایچ ایم ای سے متعلق سعودی عرب کو لکھا گیا، اس وقت کمپنی کے مکمل نام سے متعلق دستاویز دستیاب نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ دستاویز کے مطابق کمپنی اسٹیل کے کاروبارسے متعلق ہے، ایم ایل اے لکھنے سے ایک دن قبل حسین نواز شامل تفتیش ہوئے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیش میں جے آئی ٹی کے علم میں آیا کہ ہل میٹل کا پورا نام کیا ہے اور جو دستاویزات دیے گئے اس میں کسی کا ایڈریس دیا گیا تھا؟ جس پر واجد ضیا نے کہا کہ دستاویزات میں آفس ایڈریس اور پی او باکس نمبر دیا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید 6 ہفتے کی مہلت دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں