فخرِ پاکستان عالم چنہ کو گزرے 19 بر س بیت گئے -
The news is by your side.

Advertisement

فخرِ پاکستان عالم چنہ کو گزرے 19 بر س بیت گئے

سیہون: دنیا کے سب سے طویل القامت شخص کا اعزاز رکھنے والے عالم چنہ کی آج 19ویں برسی ہے ‘ وہ دو جولائی 1998 کو نیویارک میں طویل علالت کے سبب انتقال کرگئے تھے۔

سیہون شریف سے کچھ دور بچل چنہ گاؤں میں عالم چنہ 1953 میں پیدا ہوئے تھے، جہاں سے وہ صرف پرائمری تعلیم حاصل کرسکے۔ عالم چنہ کی عمر 10برس تھی جب ان کا قد تیزی سے بڑھنا شروع ہوا۔

جب وہ 16 سال کی عمرکو پہنچے تو ان کا قد اور تیزی کے ساتھ بڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ ان کے سونے کے لیے چارپائی کے بجائے ایک لکڑی کا تخت بنوایا گیا جس پر وہ سوتے تھے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالم چنہ کے ایک رشتے دار ‘ جو ان کا دوست بھی تھا ۔ اس نے پاکستان میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے دفتر سے رابطہ کیا جس نے عالم چنہ کی معلومات لے کر لندن بھیج دیں اب عالم چنہ کا قد 7 فٹ 8 انچ تک پہنچ چکا تھا اور وہ 16 میٹر والی شلوار قمیض بنواتے تھے اور پاؤں کے لیے 22 انچ کا جوتا آرڈر دے کر تیار کرواتے تھے ۔

طویل القامت ہونے کے سبب نہ صرف ان کا خرچہ بڑھ گیا بلکہ لوگ بھی انہیں بڑی توجہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے علاوہ سفر کرنے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔ جب انہیں سیہون شریف کے مزار پر نوکری ملی تھی تو اس کی تنخواہ صرف 2500 روپے تھی۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ


سنہ 1981 میں عالم چنہ کو دنیا کا لمبا ترین شخص قرار دے کر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیاجس کی وجہ سے وہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئےاور دنیا کے مختلف ملکوں سے انہیں ا پنے ہاں آنے کی دعوتیں ملنے لگیں۔

سنہ 1985 میں بنگلہ دیش کے ایک شخص کو دنیا کا لمبا ترین آدمی قرار دے دیا گیا۔ تاہم اس کے انتقال کے بعد پھر دوبارہ عالم چنہ ایک بار پھر دنیا کا لمبا ترین آدمی قرار دے دیا گیا۔

انہوں نے اپنے لمبے قد کے سبب دنیا کے کئی ممالک دیکھےاور انہیں تقریباً 18 سو سے زیادہ ایوارڈز، شیلڈز اور انعامات مل چکے تھے۔ بہت بڑے قد کی وجہ سے وہ اکثر پبلک ٹرانسپورٹ جس میں بس شامل تھی سفر کرتے تھے یا پھر ٹرین میں آتے جاتے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھ کرسابق ملٹری صدر ضیا الحق نے انھیں ایک خصوصی کار کا تحفہ دیا ۔

پہلی شادی پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک پٹھان خاندان کی لڑکی سے ہوئی تاہم ذہنی ہم آہنگی نہ ہوسکنے کے سبب کچھ عرصے بعد طلاق ہوگئی‘ سنہ 1989 میں ان کی شادی نسیم عرف نصیبو سے ہوگئی جسن کی کوکھ سے ایک بیٹے کی ولادت 14 جولائی 1990 میں ہوئی جس کا نام عابد رکھا گیا۔

عالم چنہ کو حکومت کی جانب سے ایک خصوصی مکان بنا کے دیا گیا تھا جس کے دروازے کی لمبائی دس فٹ تھی اور جس پلنگ پر وہ سوتے تھے وہ بھی 10 فٹ کا تھا۔

عالم چنہ کی بیماری


عالم چنہ کے پانچ بھائی اور تین بہنیں تھیں جن کا وہ بڑا خیال رکھتے تھے اور ان سب کے قد نارمل تھے۔ شادی کے چار سال بعد ایک روڈ حادثے میں اس کی کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کو بڑا نقصان ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگی تھی۔

دنیا کے سب سے طویل القامت شخص گردے کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے اورپاکستان میں ڈاکٹروں نے انھیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنا علاج باہر ممالک کے کسی بڑے اسپتال میں کروائیں جہاں پر جدید سہولتیں موجود ہوں۔ اس سلسلے میں عالم چنہ نے حکومت کو علاج کے لیے اپیل کی جسے منظور ہونے میں 6 مہینے لگ گئے اور جب وہ امریکہ کے اسپتال میں پہنچےتودیر ہوچکی تھی۔

ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریوں کی وجہ سے اس کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی جب کہ زیر علاج رہتے ہوئےانہیں چار ہارٹ اٹیک ہوئے، بالاخر 2 جولائی 1998 میں نیویارک کے اسپتال میں انہوں نے دم توڑ دیا۔ ان کی موت سے پاکستان د نیا کے لمبا ترین قد رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ شخص سے محروم ہوگیا۔

پاکستانی کے اس مایہ ناز شخص کی میت 10 جولائی کو امریکہ سے کراچی لائی گئی جہاں سے ان کے لیئے بنائے گئے خصوصی تابوت کو سڑک کے ذریعے سیہون پہنچایا گیا اور انہیں لعل شہباز قلندر کے احاطے میں بنی مسجد کے برابر میں دفن کیا گیا۔


عالم چنہ کی نایاب اوریادگار تصاویر


عالم چنہ کا بیٹا عابد چنہ
دبئی ایئرپورٹ پر
پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے
جاپانی بچے سے ہاتھ ملاتے ہوئے
گنیز ورلڈ ریکارڈ کے موقع پر
سیہون کی یادگار تصویر‘ جو شہرت کا سبب بنی

امریکہ کے دورے پر
العماات ائیر لائن کے جہاز کے ہمراہ

فریضۂ حج کی ادائیگی کے موقع پر

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں