The news is by your side.

Advertisement

چمٹے سے دھنیں‌ بکھیرنے والے عالم لوہار

برصغیر پاک و ہند میں‌ مقامی سازوں کے ساتھ موسیقی اور گلوکاری کے میدان میں نام کمانے والوں‌ میں لوک فن کاروں کو بہت اہمیت اور مقام حاصل ہے۔

پاکستان میں چمٹے سے منفرد دھنیں بکھیرنے اور اپنی آواز کا جادو جگانے والوں میں‌ عالم لوہار کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا جنھیں‌ ہم سے بچھڑے ہوئے 41 برس بیت چکے ہیں۔ آج اس عظیم لوک فن کار کی برسی ہے۔

عالم لوہار کا تعلق گجرات کے نواحی علاقے سے تھا جہاں انھوں نے 1928 میں‌ آنکھ کھولی۔ وہ کم عمری ہی سے گلوکاری کی طرف متوجہ ہوچکے تھے اور جب “چمٹا” ان کے ہاتھ میں آیا تو جیسے لے اور تان کو نئی ترنگ مل گئی۔ عالم لوہار وہ منفرد اور باکمال فن کار تھے جنھوں نے چمٹے کو آلہ موسیقی کے طور پر متعارف کروایا اور یہی ان کی پہچان اور وجہِ شہرت بن گیا ۔

اس لوک فن کار نے یوں تو کئی گیت گائے لیکن ’ہیر وارث شاہ‘ کے کلام نے انھیں شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ان کا گایا ہوا جُگنی اس قدر مشہور ہوا کہ مداح آج بھی اس کے سحر سے باہر نہیں‌ نکل سکے۔

ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویژن پر اپنی آواز کا جادو جگانے کے علاوہ عالم لوہار مختلف تھیٹریکل کمپنیوں کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے اور بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ تین جولائی 1979 کو ایک حادثے میں اس لوک گلوکار کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں