تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

کرپشن کا بازار چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر جا کر ختم ہوتا تھا، علیم خان کے سنسنی خیز انکشافات

لاہور: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے کہا ہے کہ کرپشن کا بازار چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر جا کر ختم ہوتا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ، فیض حمید، اور فرح خان کا کرپٹ ٹولہ معاملات چلاتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر مہر بخاری کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر استحکام پاکستان پارٹی علیم خان نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ علیم خان نے کہا کرپٹ فائیو کا جو ٹولہ ہے اس میں فیض حمید بھی شامل تھے، فیض حمید کی الگ لائن بن گئی تھی وہ سمجھتے تھے آرمی چیف بن جائیں گے۔

انھوں نے کہا ’’چیئرمین پی ٹی آئی پر ان کی اہلیہ کا مکمل کنٹرول ہے، مؤکل کے ذریعے یا ڈائریکٹ اس کا علم نہیں۔‘‘

علیم خان نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے کہ باجوہ بھی فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے ہوں، فیض حمید بطور ڈی جی سی جو کام کر رہے تھے ہم اس کا حصہ رہے ہیں، اہم ملاقاتوں کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی میری یا جہانگیر ترین کی گاڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘

علیم خان نے کہا ’’چیئرمین پی ٹی آئی جنرل عاصم منیر کو بھی فیض حمید سمجھ رہے تھے، جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی تھی، جنرل عاصم منیر نے بشریٰ بی بی کے کرپشن کے ثبوت سامنے رکھے، دکھائے گئے ثبوت دستاویزی اور آڈیو دونوں ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ اپنی حدیں پار کر رہے ہیں، جنرل نے کہا آپ کا ذاتی ملازم نہیں ملک کے لیے کام کرتا ہوں۔‘‘

علیم خان کے مطابق اعظم خان نے اپنی پسند کا ایک بندہ آئی بی میں رکھوایا جو پسند کی رپورٹ دیتا تھا، اعظم خان وہی پسند کی رپورٹ چیئرمین پی ٹی آئی کو دیتا تھا، کسی شخص کو عہدے سے نکالنے کے لیے وہی پسند کی رپورٹ لی جاتی تھی۔

Comments

- Advertisement -